45 نئے سیارے دریافت

اسلام آباد (بیو رو چیف ) ماہرین فلکیات نے حالیہ دریافت میں45نئے چٹانی سیارے شناخت کیے ہیں جو غیر زمینی زندگی یا ایلین لائف کو فروغ دینے اور سہارا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تحقیق کے دوران ایک مزید محدود فہرست بھی تیار کی گئی جس میں 24 ایسے سیارے شامل ہیں جو زندگی کے لیے سخت ترین حالات کے مطابق موزوں ہیں۔اب تک تقریباً 6,000 ایکسوپلینیٹس دریافت ہو چکے ہیں مگر ان میں سے بیشتر میں زندگی ممکن نہیں کیونکہ وہ نامناسب حالات اور درجہ حرارت کے حامل ہیں۔ایکسوپلینیٹس وہ سیارے ہوتے ہیں جوو سورج کے نظام کے باہر کسی دوسرے ستارے کے گرد گردش کرتے ہیں۔یہ نئے شناخت شدہ سیارے قابل حیات زون میں واقع ہیں یعنی وہ مدار کا علاقہ جہاں درجہ حرارت کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ان قابل حیات ایکسوپلینیٹس کی مثالوں میں ٹرپیسٹ-1، ٹی او آئی-715 بی، ایل ایچ ایس 1140 بی، کیپلر 186 ایف، اور پروکسیما سینٹاری بی شامل ہیں۔تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر کالتینیگر نے کہا جیسا کہ پروجیکٹ ہیل میری میں دکھایا گیا ہے، زندگی ممکنہ طور پر ہمارے موجودہ تصورات سے زیادہ لچکدار ہو سکتی ہے لہذا معلوم کرنا کہ موجودہ 6,000 ایکسوپلینیٹس میں کون سے غیر زمین زندگی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں نہ صرف دلچسپ بلکہ اہم بھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ اگر ہم کبھی ہیل میری اسپیس کرافٹ بنائیں تو کہاں زندگی تلاش کرنے کے لیے جانا چاہیے۔ممکنہ امیدواروں میں کچھ سیارے غیر زمین زندگی کے لیے زیادہ دلچسپ ہیں۔ سب سے زیادہ پرکشش سیارے ٹرپیسٹ-1 سسٹم میں ہیں جو 40 نوری سال دور ہے اور اس میں 4 امید افزا سیارے (ڈی، ای، ایف، اور جی) شامل ہیں۔ٹی او آئی-715 بی اور ایل ایچ ایس 1140 بی اپنے حجم اور مدار کی بنا پر قریبی مطالعے کے لیے نمایاں امیدوار بنے ہیں۔یہ سیارے اتنی روشنی حاصل کرنے کے قابل ہیں جتنی زمین سورج سے حاصل کرتی ہے۔ دیگر مثالوں میں ٹرپیسٹ-1 ای، کیپلر 1652 بی، کیپلر 442 بی، کیپلر 1544 بی، پروکسیما سینٹاری بی، جی جے 1061 ڈی، جی جے 1002 بی، اور وولف 1069 بی شامل ہیں۔تحقیق میں بیضوی مدار والے اور قابلِ حیات زون کے انتہائی اندرونی یا بیرونی کنارے پر موجود سیاروں کا بھی مطالعہ 0کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ زندگی کس حد تک حرارت یا سردی برداشت کر سکتی ہے۔کورنل یونیورسٹی کی شریک مصنفہ ابیگیل بول نے کہا کہ ہم اپنے نظام شمسی کو بطور حوالہ استعمال کر کے ایسے ایکسوپلینیٹس تلاش کر سکتے ہیں جو زہرہ اور مریخ کے درمیان ستاروں سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں