نجی شعبہ تعلیم حکومتی ذمہ داریوں کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے تعلیم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبہ تعلیم کے فروغ کے ذریعے حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے کوشاں ہے اس لئے حکومت کو تعلیمی اداروں کی بندش اور دیگر متعلقہ مسائل کے بارے میں پالیسی سازی سے قبل نجی شعبہ سے مشاورت کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ وہ آج پرائیویٹ کالجز بارے فیصل آباد چیمبر کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے اس کمیٹی کے انعقاد کو وقت کی اہم اور بروقت ضرورت قرار دیا اور کہا کہ نجی تعلیمی شعبہ اب خدمت کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کا درجہ حاصل کر چکا ہے اس لئے فیصلہ سازی کے عمل میں متعلقہ شعبوں سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کے کنونیئر سے کہا کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی یکطرفہ بندش اور شفافیت کے ساتھ ان کے مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز بھی دیں تاکہ صوبائی وزیر تعلیم کو فیصل آباد چیمبر مدعو کر کے ان کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ قائمہ کمیٹی کے کنونیئر بیرسٹر دانش امتیاز نے کہا کہ حالیہ عالمی حالات کے تناظر میں حکومت نے یکطرفہ طور پر نجی تعلیمی اداروں کو 9سے 31مارچ تک یکطرفہ طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا اور اس سلسلہ میں متعلقہ شعبہ سے پوچھا بھی نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف طلبہ کی تعلیم بلکہ والدین اور زیر تعلیم طلبہ کے علاوہ نجی تعلیمی ادارے بھی بُری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اِن غیر معمولی چھٹیوں کی وجہ سے آئندہ امتحانات بروقت نہیں ہوں گے بلکہ آئندہ تعلیمی سال بھی تاخیر سے شروع ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں