کراچی ( بیو رو چیف) روزمرہ زندگی میں جہاں ادویات کا استعمال بڑھ گیا ہے وہیں ماہر ین صحت اور قدیم روایات ایک بار پھر گھریلو نسخوں کی افادیت پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال پان کے پتے ہیں جو کئی معمولی بیماریوں کا فوری حل ہیں۔قدیم زمانے سے گھروں میں استعمال ہونے والے پان کے پتے محض ذائقہ ہی نہیں بلکہ ادویاتی خصوصیات سے بھی مالا مال ہیں۔گرمیوں کے موسم میں اکثر لوگ سر درد کی شکایت کرتے ہیں۔ پان کے پتے اپنی ٹھنڈی تاثیر کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان پتوں کو پیس کر ماتھے پر لیپ کرنے یا ٹھنڈے پتے ماتھے پر پٹی کی طرح رکھنے سے درد کم ہونے میں مدد ملتی ہے، کیونکہ یہ قدرتی طور پر ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔کئی جگہوں پر پان کے پتوں کو گھریلو علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بدلتے موسم میں اگر کھانسی یا بلغم کی شکایت ہو تو پان کے پتے پر تل یا سرسوں کا تیل لگا کر اسے ہلکا گرم کریں اور سینے پر رکھ کر سکائی کریں۔ اس کے اجزا بلغم کو باہر نکالنے اور جسم کو اندر سے مضبوط بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ سانس لینے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ایک چمچ پان کے پتے کا رس شہد کے ساتھ چاٹنا پرانی کھانسی سے آرام دینے میں بھی مفید ہے۔کھانے کے بعد پان چبانا محض روایت نہیں بلکہ سائنس ہے۔ یہ لعاب زیادہ بناتا ہے جو خوراک کو توڑنے میں مدد دیتا ہے اور کھانا بہتر طریقے سے ہضم ہوتا ہے۔چھوٹے بچوں کو قبض کی صورت میں ارنڈی کے تیل میں ڈوبی ہوئی پان کی ڈنڈی کا استعمال فائدہ پہنچاتا ہے۔اگر برش کرنے کے باوجود منہ سے بدبو آئے تو پان کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس سے غرارے یا کلیاں کریں۔ یہ مسوڑھوں کی سوجن ختم کرنے اور سانسوں کو معطر رکھنے کا بہترین قدرتی طریقہ ہے۔ سونف اور چینی کے ساتھ سادہ پان منہ کو تروتازہ کرتا ہے۔




