ممتاز احمد طاہر…ایک عہد، ایک زندہ روایت

30مارچ محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ میرے لیے ایک ایسا دن ہے جو ہر سال دل کے دریچوں پر دستک دیتا ہے اور تا دمِ زندگی دیتا رہے گا۔ ایک ایسی یاد، ایک ایسا خلا، اور ایک ایسا احساس جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ دن ہے جب میں نے اپنے والد محترم، اپنے محسن، اپنے استاد، ممتاز احمد طاہر سیال کو بظاہر کھو دیامگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوڑ کر نہیں گئے، بلکہ اپنی روشنی، اپنی تربیت اور اپنے اصولوں کی صورت میں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ والد محترم کی زندگی ابتدا سے عروج تک ایک جدوجہد کی داستان ہے۔ یکم مارچ 1946کو ملتان کی علمی و ادبی فضا میں جنم لینے والے ممتاز احمد طاہر مرحوم نے اپنے عملی سفر کا آغاز ایک عام انسان کی حیثیت سے کیا، مگر ان کے خواب عام نہیں تھے۔ انہوں نے B.Sc (Hons) اور D.H.M.Sکی ڈگریاں حاصل کیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کا وہ قلم بنا جس نے ایک صحافتی عہد کو جنم دیا۔ان کا خواب صرف خبر دینا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنا تھا جو عوام کی حقیقی آواز بن سکے۔ یہی خواب 6ستمبر 1975کو روزنامہ آفتاب کی صورت میں حقیقت بنا۔ آفتاب صرف ایک اخبار نہیں تھایہ ایک تحریک، ایک نظریہ اور ایک مشن تھا۔ 1970اور 1980کی دہائیوں کے سیاسی ہنگاموں میں، جب صحافت کا اصل امتحان تھا، آفتاب نے جرات، دیانت اور حق گوئی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ اس کی اشاعت کا 80 ہزار سے تجاوز کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ عوام نے اس آواز کو اپنا لیا تھا۔لاہور اور پھر کراچی تک آفتاب کا پھیلا اس بات کی دلیل ہے کہ ممتاز احمد طاہر صرف ایک صحافی نہیں بلکہ ایک وژنری ادارہ ساز تھے۔ وہ کہا کرتے تھے: صحافت عبادت ہے، اور عبادت میں نیت کا خالص ہونا ضروری ہے۔یہی اصول ان کے ہر فیصلے، ہر اداریے اور ہر جدوجہد میں جھلکتا تھا۔ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی دینی وابستگی تھی۔ انہیں اپنے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت ورثے میں ملی۔ ہمارے دادا دادی نے عشقِ مصطفی کو جس خلوص سے اپنی زندگی میں اپنایا، وہی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے صحافت بھی ایک روحانی ذمہ داری تھی ایک ایسا فریضہ جس میں سچائی، دیانت اور اخلاص لازم تھے۔ممتاز احمد طاہر مرحوم کی حب الوطنی بھی بے مثال تھی۔ ان کے لیے پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ تھا۔ باوجود اس کے کہ خاندان کے دیگر افراد بیرون ملک منتقل ہو گئے اور انہیں بھی بارہا بہتر مواقع کے لیے بلایا گیا، انہوں نے ہمیشہ کہا:جو مٹی مجھے پہچان دیتی ہے، میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی دھرتی، اسی شناخت اور اسی وسیب کے نام وقف کر دی۔ممتاز احمد طاہر مرحوم کی زندگی کا ایک نہایت روشن پہلو اپنے وسیب جنوبی پنجاب کے حقوق کے لیے ان کی بے لوث جدوجہد تھی۔ وہ محض ایک مدیر نہیں بلکہ اپنے خطے کی ایک مضبوط آواز تھے۔ جب بھی ملک کے کسی نئے صدر یا وزیراعظم کی جانب سے اخبارات کے ایڈیٹرز اور پبلشرز کو ایوانِ صدر یا ایوانِ وزیراعظم میں مدعو کیا جاتا، تو وہ ہر فورم پر نہایت جرات، بصیرت اور وقار کے ساتھ اپنے وسیب کی نمائندگی کرتے۔محترمہ بے نظیر بھٹو ہوں یا میاں محمد نواز شریف، یا پھر صدورِ مملکت میں جنرل ضیا الحق، جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری ہر ایک سے ملاقات میں انہوں نے بلا خوف و مصلحت جنوبی پنجاب کے مسائل، محرومیوں اور حقوق کی بات کو ترجیح دی۔ ان کے لیے یہ صرف ایک صحافتی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری تھی، جسے وہ اپنی آخری سانس تک نبھاتے رہے۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ علاقائی اور ریجنل اخبارات کے حقوق، ان کی بقا اور ترقی کے لیے بھی ایک توانا آواز بنے رہے۔ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ ملک کی اصل نبض علاقائی صحافت میں دھڑکتی ہے، جہاں عوام کے حقیقی مسائل، احساسات اور ترجیحات کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی ریجنل پریس کے استحکام، ان کے جائز حقوق کے حصول اور ان کے وقار کی بحالی کے لیے وقف کر دی۔ APNSاور CPNEمیں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ صرف اپنے ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کے لیے لڑتے تھے اور یہی ان کی اصل عظمت تھی۔لیکن میرے لیے وہ سب سے پہلے ایک باپ تھے۔ ایک ایسا باپ جس نے ہمیں صرف تعلیم نہیں دی بلکہ کردار دیا، اصول دیے اور زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ ان کا ایک جملہ آج بھی میرے لیے مشعلِ راہ ہے:نام بنانا مشکل نہیں، اسے قائم رکھنا اصل امتحان ہے۔ 30 مارچ 2023کو انکا وصال ہمارے لیے ایک ناقابلِ بیان صد مہ تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہمارے سروں سے ایک گھنا سایہ اٹھ گیا ہو، مگر اسی لمحے ایک نئی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پر آ گئی ان کے مشن کو جاری رکھنے کی ذمہ داری۔آج میں اپنے بھائی محسن ممتاز سیال کے ہمراہ اس مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہم نے آفتاب میڈیا گروپ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے، مگر اس کی روح وہی رکھی ہے جو ہمارے والد نے ہمیں دی تھی۔ وقت گزر رہا ہے، مگر ان کی یادیں مدھم نہیں ہوتیںبلکہ اور زیادہ روشن ہوتی جاتی ہیں۔ ہر فیصلہ کرتے وقت، ہر نئی سمت اختیار کرتے ہوئے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آج بھی رہنمائی کر رہے ہوں۔ ممتاز احمد طاہر جیسے لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کام میں، اپنی تربیت میں، اور اپنے چھوڑے ہوئے نقوش میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔آج ان کی تیسری برسی پر میں یہ عہد کرتا ہوں کہ ان کے مشن کو نہ صرف جاری رکھوں گا بلکہ اسے مزید وسعت دوں گا۔ ہم بدلتے وقت کے ساتھ چلیں گے، مگر اپنے اصولوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ میرے والد محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، آمین یارب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں