مارچ میں مہنگائی 19ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی (اداریہ)

خطے کی کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی پڑنے لگے ملک میں مارچ میں مہنگائی 19ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی رپورٹ کے مطابق فروری کے مقابلے میں مارچ میں مہنگائی کی شرح میں 1.18 فی صد کا اضافہ ہوا مارچ 2026ء میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 7.30 ہو گئی جو اگست 2024ء کے بعد مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح ہے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ جولائی 2025ء سے لیکر مارچ 2026ء کے دوران اوسط مہنگائی 5.67 فی صد رہی فروری 2026ء میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ 6.98 فی صد اور مارچ 2025ء میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 0.7فی صد تھی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ دیہات میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 0.96 فی صد اور شہریوں میں 1.34 فی صد بڑھ گئی دیہات میں مہنگائی کی سالانہ شرح 7.17 فی صد ہو گئی جبکہ شہروں میں یہ شرح سالانہ شرح 7.39 فی صد ہو گئی” مہنگائی بڑھنے کے اسباب کی طرف ہماری حکومت توجہ نہیں کرتی صرف عوام پر ٹیکس عائد کرنے اور خزانہ بھرنے پر ہی توجہ مبذول کر رہی ہے حالیہ حکومتی فیصلے سے جس میں بجلی کے بلوں میں فکسڈ ٹیکس 600 اور 900 روپے عائد کیا گیا ہے ہر عام آدمی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے پہلے ہی بجلی کے بل عوام کیلئے ادا کرنا مشکل ہیں نئے ٹیکسوں سے غریبوں کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں معیشت کے نام پر عوام کی سانسیں تک گروی رکھی جا رہی ہیں ایک طرف حکومتی ایوانوں میں بیٹھے وزراء مراعات یافتہ حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے تو پھر یہ کیسی ترقی ہے جب عام آدمی اپنے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے میں ناکام ہو گا تو اسے ملکی ترقی کا کیسے نام دیا جا سکتا ہے جب معیشت کو ٹیکسوں اور جرمانوں کے سہارے چلایا جائے تو وہ معیشت نہیں ایک بوجھ بن جاتی ہے کامیاب معیشت وہ ہوتی ہے جو پیداوار بڑھائے روزگار پیدا کرے صنعتوں کو فروغ دے عوام کو سہولیات فراہم کرے یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے ہر روز ایک نیا ٹیکس ایک نیا جرمانہ… عوام کہاں جائیں؟ معیشت کا مطلب صرف خزانے بھرنا نہیں ہوتا بلکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگی آسان بن جائے اگر خزانہ بھر جائے عوام کی جیبیں خالی ہو جائیں تو اسے کیا کہا جائے گا؟ معیشت کو کامیاب قرار دینے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں جب ایک غریب آدمی دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے حاصل کرے جب وہ بجلی کے بل سے خوفزدہ ہو جب وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں پریشان ہو تو اس وقت معیشت کی کامیابی کے دعوے محض مذاق لگتے ہیں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکس کسی بھی ریاست کاحصہ ہوتے ہیں مگر ٹیکس کا مقصد عوام کو سہولیات دینا ہوتا ہے نہ کی سزا دینا… ٹیکسوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ جائے کہ عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے تو مشکلات بڑھیں گی بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز نے عوام سے ان کی نیندیں چھین لی ہیں ایک صارف بجلی استعمال کرے یا نہ کرے اسے ادائیگی کرنی ہے یہ اصول غیر منصفانہ ہے اس پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کر کے عوام کیلئے ریلیف کا اعلان کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں