تیل کا عالمی بحران اور حکومتی کاوشیں! (اداریہ)

ایران پر امریکہ’ اسرائیل کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے نتائج دن بدن عالمی طور پر مشکلات کا باعث بن رہے ہیں جن میں سب سے اہم مسئلہ تیل کا عالمی بحران ہے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خلیجی ممالک کو دیگر عالمی ممالک کو پٹرولی مصنوعات کی فراہمی کیلئے تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں امریکہ آبنائے ہرمز کی بندش پر سخت طیش میں ہے اور ٹرمپ بار بار ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہین آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے امریکہ کے اتحادیوں نے انکار کر دیا ہے جس کے بعد ٹرمپ کا پارہ ہائی ہو چکا ہے خلیجی جنگ کے اثرات سامنے آ رہے ہیں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20فی صد تیل کی برآمدات کا مرکز راستہ ہے اسکی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی کو بُری طرح متاثر کیا ہے خود امریکہ کی اپنی حالت پتلی ہو رہی ہے جہاں گیس کی قیمتوں میں 50سینٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوا مشرق وسطیٰ کی معیشتیں’ جو تیل پر انحصار کرتی ہیں براہ راست نقصان اٹھا رہی ہیں سعودی عرب’ قطر’ متحدہ عرب امارات جیسی ریاستوں کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے خطرات نے تیل کی پیداوار کو متاثر کیا ہے قطر میں ایل این جی کی پیدوار رک گئی جبکہ دیگر ملکوں نے برآمدات کو بحیرہ احمر کے راستوں کی طرف موڑنے کی کوششیں کیں جس سے لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے ایران کا پڑوسی ملک ہونے کے ناطے سے پاکستان پر اس جنگ کے اثرات سب سے زیادہ اور براہ راست مرتب ہو رہے ہیں پاکستان تیل کی تقریباً 85 سے 90فی صد ضرویات درآمد کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ خلیج سے آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا اور جہازوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان کی تیل کی سپلائی لائن بُری طرح متاثر ہوئی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50فی صد اضافے نے پاکستان کا درآمداتی بل بہت بڑھا دیا ہے نتیجتاً پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں میں ے پناہ اضافہ ہوا حکومت نے بادل نخواستہ نرخوں میں اضافہ کا اعلان کیا اور اس مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے حکومت نے فوری اقدامات اٹھائے ہیں وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد وزیراعظم نے عوام کیلئے ایک ماہ کیلئے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا جو عوامی ریلیف ہے اس میں شک نہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا تیل سستا نہیں ہو سکتا خاص طور پر جنگ کے دوران جب عالمی طور پر قیمتیں پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہوں تو ایسے حالات میں یقینا ہر کسی کو سبسڈی نہیں دی جا سکتی اس لئے حکومت نے ٹارگٹڈ ریلیف پلان بھی متعارف کرایا ہے حکومت کی جانب سے پٹرول ڈیزل کی دستیابی یقینی بنانا شفاف نظام کے ذریعے ریلیف کی فراہمی قابل ستائش ہے مگر عوام کا کردار بھی بہت اہم ہے عوام کو بھی اس بحران سے نکلنے کیلئے بھرپور تعاون کرنا چاہیے اور بلاضرورت پٹرول استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے حکومت اور عوام کو مل کر کفائت شعاری کی عادت ڈالنی ہو گی اگر عوام روزمرہ زندگی میں بچت کا رویہ اپنائیں تو چند برسوں میں پٹرول کا بوجھ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں