امریکہ’ اسرائیل کی ایران سے جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنا تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی نظر آ رہی ہے جہاں الفاظ اور بیانات صرف سفارتی جملے نہیں رہتے بلکہ جنگ کے سائے کو گہرا کر دیتے ہیں ٹرمپ کا حالیہ بیان جس میں ایران کے پاو رپلانٹس اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک خطرناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے اس کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے سخت ردعمل مزاحمت اور ہر قسم کے جواب کا اعلان’ خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر چکا ہے یہ صورت حال صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں’ مشرق وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اٹھنے والی چنگاری اکثر پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیتی ہے آج بھی سوال یہی ہے کہ کیا ہم نئی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں؟ عالمی ماہرین اس وقت صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں کئی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادی ایران کی جوہری یا توانائی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں تو اس کا ردّعمل صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ ایران کے پاس نہ صرف براہ راست فوجی جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ اس کے خطے میں اتحادی بھی ہیں جو مختلف ممالک میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ ایک ملک سے نکل کر پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے اگر اس تنازعہ میں شدت آتی ہے تو اس کے اثرات ایشیا اور یورپ تک ضرور پہنچیں گے یورپ پہلے ہی توانائی کے بحران سے گزر رہا ہے اور اگر مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو یورپ کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے ایشیا خاص طور پر چین اور بھارت جیسے ممالک جو تیل کے بڑے درآمدکنندگان ہیں اس بحران سے براہ راست متاثر ہوں گے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑے گا ٹرمپ کے بیانات کو بعض ماہرین غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کو نظرانداز کر کے طاقت کے استعمال کی بات کرنا دنیا کو خطرناک سمت میں دھکیل سکتا ہے امریکہ پہلے ہی کئی جنگوں میں ملوث رہا ہے اور اب ایک نئی محاذ آرائی عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے خوراک کا بحران بھی ایک بڑا خطرہ ہے جنگ کی صورت میں سپلائی جین متاثر ہو گی جس سے گندم چاول اور دیگر بنیادی اشیاء کی قلت پیدا ہو گی مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کیی ممالک پہلے ہی خوراک کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں اور اگر عالمی تجارت متاثر ہوتی ہے تو یہ ممالک شدید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حالات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا ایک نازک دور میں داخل ہو رہی ہے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو یہ کشیدگی ایک ایسی جنگ میں بدل سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے، ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور کی جنگیں روائتی جنگوں سے کہیں زیادہ پیجیدہ ہو چکی ہیں اب صرف میدان میں لڑے جانیوالے ٹینکوں اور فوجیوں تک محدود نہیں بلکہ سائبر حملے معاشی پابندیاں اور پراکسی وار کا حصہ بن چکے ہیں اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم ہوتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ روس اور چین جیسے ممالک بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو جائیں یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک علاقائی جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جو کسی بھی صورت دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے کوئی ملک نہیں چاہتا کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو… لہٰذا امریکہ کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا اور مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی راہ ہموار کرنا ہو گا اگر اس کام میں مزید تاخیر کی گئی تو اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔




