پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں امپورٹ کرنا ناقابل فہم اقدام

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برا ئے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت پٹرول کی بچت کے لیے اقدامات کر رہی ہے تو دوسری طرف پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں دھڑ ادھڑ پاکستان امپور ٹ کی جا رہی ہیں جو کہ ناقابل فہم حکومتی اقدا م ہے۔ ایسی گاڑیوں کی درآمد کے بعد یقینی طور پر پٹرولیم مصنوعا ت کا استعما ل بھی ہوگا۔ چنانچہ حکومت کو حالات اور صورتحال کے تناظر میں حکمت عملی وضع کرتے ہوئے پٹرول وغیرہ سے چلنے والی گاڑیاں منگوانے کی بجائے الیکٹریکل گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوں گی۔ کیونکہ وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اور دنیا میں ٹرک، بسیں، موٹرسائیکل، رکشہ جات وغیرہ بجلی پر شفٹ ہو رہے ہیں۔ مگر پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات سے چلنے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کر کے الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹیز بڑھا دی ہیں جو ناقابل فہم اور بیڈ گورننس ہے حالانکہ الیکٹرک گاڑیوں پر قطعی طور پر ٹیکس ڈیوٹی نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ اور پٹرول کی خاطر خواہ بچت کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ایسے اسٹیشنز قائم ہونے چاہیے کہ جہاں مختلف قسم کی گاڑیوں کی مفت یا معمولی دام پر چارجنگ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پٹرول اور ماحولیاتی آلودگی سے جان چھڑانی ہے تو آئندہ چار پانچ برسوں تک ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیاں چلانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنانے والی فیکٹریاں قائم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں