ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) گرین وائز نے ایک کمپیکٹ ہائیڈروجن ککنگ اسٹو متعارف کرایا ہے جو گھروں اور کمرشل کچن کے لیے بنایا گیا ہے اور پانی سے خود اپنا ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ نظام ایک عام ککنگ یونٹ میں ہی پروٹون ایکسچینج میمبرین (PEM) الیکٹرولائزر کو ضم کرتا ہے، جس کے ذریعے صارفین ضرورت کے وقت ہائیڈروجن خود تیار کر سکتے ہیں۔یہ چولہا الیکٹرولائسز کے ذریعے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتا ہے، پیدا ہونے والی ہائیڈروجن فورا بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے، جبکہ صرف پانی کی بھاپ بطور اخراج خارج ہوتی ہے۔اس عمل کے دوران آکسیجن بھی خارج ہوتی ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا دعوی ہے کہ یہ اردگرد کی ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نظام کو عام طور پر کسی بیرونی فیول اسٹوریج یا ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوتی۔گرین وائز کے ڈائریکٹر اور شریک بانی سنجیو چودھری کے مطابق اس سسٹم کو شروع کرنے کے لیے تقریبا 100 ملی لیٹر ڈسٹلڈ یا ریورس اوسموسس پانی اور تقریبا 1 کلو واٹ آور بجلی درکار ہوتی ہے۔یہ مقدار تقریبا 6 گھنٹے تک مسلسل کھانا پکانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے، اسے سولر پینلز کے ساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے، جس سے یہ ان علاقوں کے لیے موزوں ہو جاتا ہے جہاں بجلی غیر مستحکم ہو یا گیس نیٹ ورک تک رسائی محدود ہو۔بنیادی سسٹم میں ہائیڈروجن فوری طور پر پیدا اور استعمال ہوتی ہے، تاہم کمپنی اضافی اسٹوریج آپشنز بھی فراہم کرتی ہے تاکہ ہائیڈروجن کو پہلے سے تیار کر کے بعد میں استعمال کیا جا سکے۔اسٹوریج کے لیے 200 سے 300 بار دبا والے کمپریسڈ سلنڈر یا کم دبا والے بفر ٹینک استعمال کیے جا سکتے ہیں، کمپنی کسٹمر کی ضرورت کے مطابق اسٹوریج سسٹم کو حسبِ ضرورت بھی ڈیزائن کرتی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ سسٹم روایتی انڈکشن چولہوں کے مقابلے میں مختلف طریقے سے کام کرتا ہے، کیونکہ وہ ایک برنر کے لیے تقریبا 2 کلو واٹ اور 6 گھنٹوں میں 12 کلو واٹ آور تک بجلی استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے برعکس یہ ہائیڈروجن سسٹم بجلی کو براہِ راست ایندھن میں تبدیل کرتا ہے اور پھر اسے جلا کر استعمال کرتا ہے، اس میں اسٹین لیس اسٹیل باڈی اور جدید سیفٹی سسٹمز شامل ہیں تاکہ مسلسل اور محفوظ استعمال ممکن ہو سکے۔گرین وائز اس ٹیکنالوجی کو ہوٹلوں، کمیونٹی کچنز اور دیہی علاقوں کے لیے خاص طور پر مفید قرار دے رہی ہے جہاں توانائی کی دستیابی اور قابلِ اعتماد سپلائی اہم مسئلہ ہوتا ہے۔سنگل برنر ماڈل کی قیمت تقریبا 1128 ڈالر (اس کے علاوہ GST) ہے، جبکہ ڈبل برنر ماڈل تقریبا 1610 ڈالر (GST کے علاوہ) میں دستیاب ہوگا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پروڈکٹ بھارت کے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا مقصد ماحول دوست توانائی کے نظام کی طرف منتقلی کو فروغ دینا ہے۔




