نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا و ایران میں چند روز بعد بات چیت کا ایک اور رانڈ ہو سکتا ہے۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا اور ایران میں سفارتکاری کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، ایران کے ساتھ سفارت کاری کے دروازے کھلے ہیں، علاقائی حکام کے مطابق چند روز میں مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی ممالک دوبارہ مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں، جنگ بندی میں مزید توسیع کی کوشش بھی کی جا رہی ہے، امریکا، ایران کے مختلف بیانات کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔دریں اثنا۔لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ دی اکانومسٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم ازکم کسیایک کی شکست ہوتی ہے، اگر ایران میں جاری جنگ میں سیز فائر سے جنگ کاخاتمہ ہوا تو سب سے بڑی شکست کھانے والے امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے۔ دی اکانومسٹ کے مطابق ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کو چلانے کے نئے طریقے کے لییصدرٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے، ٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔رپورٹ کیمطابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے بھرپور اشتعال انگیز بیانات اب اس طرح لگتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور سنہری دور کے دعوے کے بعد وہ خود کو مضحکہ خیز بنا سکتے ہیں، ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد مشرق وسطی کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا بڑی حد تک پورے نہیں ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کی وجوہات ہیں، اس کے رہنما مسلسل نشانہ بن رہے ہیں، توانائی اور نقل و حمل کے نظام کی وسیع تباہی ملک کو چلانا مشکل بنا دے گی، وہ پابندیوں کے خاتمے کے بھی خواہاں ہیں۔دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ ایران کو یہ بھی لگتا ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں ہے، کیونکہ امریکا مستقل طور پر اپنی فوج کو حملے کے لیے تیار نہیں رکھ سکتا، ایران کے پاس مثر بحری یا فضائی طاقت نہیں اور اس نے اپنے کئی میزائل اور ڈرون کھو دیے یا استعمال کر لیے ہیں، مزید بنانے کے لیے اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ اس کی معیشت ہزاروں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی سال پیچھے جا چکی ہے۔رپورٹ کیمطابق یہ جنگ جوہری خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے، اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، لیکن اعلی درجے کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے، جو کئی بم بنانے کے لیے کافی ہے، ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن مستقبل کے حملوں سے بچا کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی ترغیب بھی بڑھ گئی ہے، جو خطے میں جوہری پھیلا کا باعث بن سکتی ہے۔دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھی اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، یہ جنگ ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی حق نہیں ہوتی، اگرچہ امریکا کی فوجی برتری واضح تھی، ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی، بغیر حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نیامریکا کی طاقت کو کمزور کیا۔




