صفدرآباد(نامہ نگار)شہر کے بازاروں اور گلیوں میںکوڑے کے ڈھیروں پر مکھیوں ،کیڑے مکوڑوں کی یلغار،جراثیم بے شمار،میونسپل کمیٹی یا ایل ڈبلیو ایم سی کا شہریوں کی صحت سے کھلواڑ، جمعہ ہو یا اتوار،شہر میں کوڑے کی بھرمار،عملہ صفائی کا کردار،لبوں پہ سگریٹ اور منہ میں نسوار،عوام ان سب سے ہے بے زار،نظام کی بہتری کو کوئی نہیں تیار،اس حمام میںسب لوگ ننگے ہی یار ، فیملی پارک کو دو کروڑ کا ٹیکہ ہے بے کار لیکن تمام کہانی شائد قارئین کو کوئی سبق بتا دے،یہ صفدرآبا د کا نقشہ ہے جو سامنے لانے کی ایک حقیر سی کوشش ہے،اس سے بہت سوں کے پیٹ میںمروڑ ضرور اٹھے گا مگرسچ سچ ہی ہوتا ہے ،اٹھتا ہے تو اٹھتا رہے،میرے بھائی یہ شہریوں کے دل کی آواز ہے جو صفدرآباد کے گلی کوچوں میں ہر ایک کی زبان پر ہے،،،،،اب سوال یہ ہے کہ ہے کوئی محب وطن سرکاری افسریااہل کار جسے خدا کا کوئی خوف ہو اور وہ اس شہر کے مکینوں کے درد کو سمجھے،گلیوں اور بازاروں میں صفائی کا میکنزم ایسا تیار کرے کہ لوگ اسے صدیوں یاد رکھیں۔ایک شہری نے کہا کہ جب ہمارا بچپن تھا تو ہم دیکھتے کہ ٹائون کمیٹی کا عملہ صفائی نالیوں اور گھروں میںبڑی محنت سے مچھر مار سپرے کیا کرتا تھا ۔




