پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت تجھے سلام

کون نہیں جانتا ہے کہ جب ہواں کے رخ تبدیل ہوتے ہیں اور دبائو کم ہو جائے تو بارش بھی ہو سکتی ہے اور طوفان آنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ آج کل دنیا میں دبا کم تو کیا ہے بلکہ دبا نہ ہونے کے برابر ہے اسی لئے کبھی وینزویلا کا صدر اور اس کی بیوی اٹھا لئے جاتے ہیں، کبھی اسرائیل اپنی من مرضی کرنے کی انتہا کردیتا ہے اور کبھی امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران کو نیست ونابود کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ یقینا اس دنیا میں ہر روز معجزات نہیں ہوتے ہیں لیکن معجزے کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کا ایران توڑ نکال لیتا ہے۔ میزائل مقررہ اہداف پر دھڑادھڑ گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر آبنائے ہرمز۔ جارحیت کا منہ توڑ جواب۔ یوں امریکہ اسرائیل دھمکیوں پر اتر آتے ہیں دھمکیاں دینا بھی کافی حد تک بے بسی کی دلیل ہوتی ہیں نہیں تو طاقتور شور شرابا نہیں کرتا بلکہ کمزور کو کان سے پکڑ کر بات منواتا ہے اور یوں اپنی چوہدراہٹ کا لوہا منوا لیتا ہے تاہم اب کے بار ایران مذکورہ سپر پاور کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے جس کو نہ تو نگلا جا رہا ہے اور نہ ہی اگلا جارہا ہے۔ “اگ تے کدھ والا معاملہ”۔ دانا اور سیانے لوگ ہمیشہ دیکھ بھال کے اور سوچ بچار کرکے اپنے معاملات کرتے ہیں تاکہ ہزیمت کے نتیجے میں “اوہلہ” نہ اتر جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سالوں سے نیتن یاہو امریکی صدور سے بھرپور مطالبہ کررہا تھا کہ ایران کی یہ جرات کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو آنکھیں دکھائے۔ اس کی آنکھیں نکال باہر کی جائیں بہرحال سارے سربراہ بصیرت اور ہوشمندی کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پھوں پھاں اور ان کے مقاصد بھی نویکلے اور پھر ذہنی فتور “ہمارا طوطی بولتا ہے”۔ ایسی صورتحال میں موجودہ جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سارے واقعات۔ فطری تقاضا کہ دنیا ظاہر کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے بسا اوقات تو فیصلے کرنے میں بڑی پیچیدگی آڑے آجاتی ہے اور ڈیڈلاک۔ میں ناں مانوں۔ ایک طرف واحد سپر پاور، دوسری طرف اسرائیل اور اس کی من مانیاں، تیسری طرف عرب ممالک اور آخر پر بیچارہ ایران۔ ایران کی ساری اہم لیڈر شپ ماردی گئی، انفراسٹرکچر تہس نہس اور اس کے علاوہ بھی ناقابل بیان نقصان۔مزید یہ کہ ایران کے پاس کوئی قابل ذکر فضائیہ کا بھی نہ ہونا۔ میزائل ہی میزائل۔ “میزائل آیا جے”۔ روس اور چین کا اقوام متحدہ میں قرارداد کا ویٹو کرنا۔ پوری دنیا پر تیسری جنگ عظیم کے بادل منڈلانے لگے اور دبا کی کمی کی صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ مذکورہ سطور میں بیان کیا گیا ہے۔ سفارت کاری ایک ایسا فن ہے جس میں جنگ وجدل کو مذاکرات کے ذریعے سے روکنا ہوتا ہے پر آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ سب سے پہلے آگے قدم کون بڑھائے گا۔ ایسا کون ہوگا جس کی سب فریقین بات سنیں گے کیونکہ بات سنا کر ہی بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے نہیں تو غیر یقینی، افراتفری اور مایوسی کی انتہائی صورتحال۔پاکستان کی فعال سفارت کاری اور سیاسی وعسکری قیادت کی بصیرت، دل کی آنکھوں سے دیکھنا یعنی ادراک کرنا، اس کے حساب سے اگلا لائحہ عمل ترتیب دینا اور پھر مستعدی اور چابکدستی سے معاملات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا۔ لیکن جب مذکورہ صورتحال ہو اور جنگ کے شعلے پوری طرح بپھر چکے ہوں ہر طرف گھن گرج، خون خرابہ، تباہی ہی تباہی۔ ان حالات میں ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالنا آگ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہوتا ہے۔ یہی تو سفارت کاری کا امتحان ہے اور یہی وہ بصیرت ہے جس کا پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت نے مظاہرہ کیا ہے اور ناممکن کو ممکن کردکھایا ہے۔ کہاں امریکہ کہاں ایران اور کہاں پاکستان اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایران اور امریکہ پاکستان کی سرزمین پر ایک ہی میز پر بیٹھے۔ بات چیت ہوئی۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کررہے تھے اور ایران سے آنے والے وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کررہے تھے۔مذاکرات ایک دن میں ہی تمام ہوئے۔ ملا جلا ردعمل۔ بعض کے نزدیک تو محض نشستند اور برخاستند والا معاملہ۔ آئے اور آکر چلے گئے۔ اہل عقل ودانش بہرحال اس پر پکی پیڈی رائے دے سکتے ہیں۔ صفدر علی خان سرزمین گروپ نے لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف الرائے اور صاحبان رائے نے شرکت کی۔ ان میں دفاعی تجزیہ نگارجنرل ناصر نواز جنجوعہ ریٹائرڈ، معروف دانشور اور صحافی مجیب الرحمن شامی، پروفیسر نعیم مسعود کالم نگار روزنامہ جنگ، پروفیسر افتخار الحسن اور دیگر مقررین نے موجودہ جنگ اور اس کے نتیجے میں ممکنہ حالات پر روشنی ڈالی۔ امریکی وائس پریذیڈنٹ جے ڈی وینس کے بارے میں بننے والی میمز کا بھی خصوصی ذکر ہوا اور ایک خیال یہ بھی تھا کہ مذکورہ وائس پریذیڈنٹ کے پاکستان آنے کا سب سے بڑا فائدہ جاٹ قوم کے قبیلے وینس کو ہوا ہے کیونکہ اس قبیلہ کے بعض لوگ بڑے خوش تھے کہ ان کی برادری کا بندہ چھا چھو گیا ہے۔ حیف ہمارے ہاں برادری ازم اور اس پر اترانے کا کلچر۔ خیر یہ ہلکا پھلکا انداز ہے تاکہ قارئین کو جنگ کے خوف سے نکالنے کے لئے شعوری کوشش کی جائے۔مجموعی طور پر یہ رائے پائی جاتی تھی کہ پاکستان کی فعال سفارت کاری کی بدولت دو متحارب قوتیں ایک میز پر بیٹھ گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بڑی دانائی اور حکمت سے ایران، عرب ممالک اور امریکہ کا اعتماد حاصل کیا اور ان سب نے پاکستان کی میزبانی پر اتفاق کیا۔ تاہم بعض مقررین کا خیال تھا کہ مذاکرات بہت جلدی ختم ہو گئے ہیں اور آئندہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تھا اس دن کا منظرنامہ۔ پھر تو معجزہ ہوا پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سعودی عرب پہنچے اور پھر ترکی۔ فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر ایران کی سرزمین پر انتہائی پرعزم اور پرجوش انداز میں قدم رکھتے ہیں ایران قیادت سے انتہائی محبت اور اخلاص سے بغل گیر ہوتے ہیں اور اس کے بعد تو پھر کیا ہوا۔ اس کو کہتے ہیں معجزہ۔ ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا۔ سفارت کاری اور ایسی سفارت کاری( میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں۔۔۔ غلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات میں)۔ سارے رعونت اور تکبر کے بت پاش پاش۔ دل میں پائی جانے والی کدورتیں کافی حد تک رفع دفع۔ اسرائیل کے ایک دفعہ تو سارے عزائم خاک میں اور غالب امکان ہے دنیا کی واحد سپر پاور اب آئندہ فیصلہ سازی میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تجھے سلام۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہ جا بہ جا اور دشمنان پاکستان کے منہ میں خاک بلکہ ان سب کا منہ کالا۔ مختصرا سفارت کاری محض بیانات کا نام نہیں بلکہ بصیرت، جرات اور بروقت فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو تب ایک درست قدم تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ پاکستان نے یہ قدم اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت باصلاحیت ہو تو سب سے گھمبیر بحران بھی مذاکرات کی میز پر حل کئے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں