لاہور( بیورو چیف)پنجاب اسمبلی نے فلم سٹی اتھارٹی بل 2026 سمیت چار مسودات قوانین کی منظوری دیدی ،اپوزیشن کی تجاویز کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں،اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا اور نعرے بازی کی گئی جس کے جواب میں حکومتی اراکین نے بھی نعرے بازی کی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت کی بجائے51 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ پر جس طرح سپیکر نے کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے ،وومن آرگنائزیشن سمیت تمام بیٹیوں والے آپ کے مشکور ہیں،وہ عورتیں جن کورضامندی کے بغیر اور مختلف مجبوریوں کی صورت میں بھینٹ چڑھا دیا جاتا وہ بھی مشکور ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ میں تمام مخالف رائے رکھنے والوں کی بھی مشکور ہیں ،ہم اپنے مخالف بہن بھائیوں کو بھی بل پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے محکمہ سپیشل ایجوکیشن سے متعلقہ سوالوں کے جوابات دئیے ۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے بارہ اضلاع میں نیوٹریشن فراہم کی جاتی ہے ، جس پر امسال سات ارب خرچ کیاگیا،تیرہ لاکھ بچوں کو نیوٹریشن میں دودھ اور بسکٹ دیئے جا رہے ہیں۔اسمبلی میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے دی پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026 پیش کیا ۔اپوزیشن کی جانب سے اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ صحت اور تعلیم کا بجٹ کٹ کر کے فلم سٹی اتھارٹی پر لگایا جا رہا ہے ۔ایسے بلوں کی کیا ضرورت ہے ،حکومت بل پر بل لارہی ہے آخر اتنی کیا عجلت ہے ،بائو جی کیوں خاموش ہیں ،پہلی فلم اس پر بننی چاہیے ۔پارلیمانی وزیر مجتبیٰشجاع الرحمان نے کہاکہ اپوزیش بل پر بات کرے ،لیڈر شپ پر ذاتی حملے درست بات نہیں۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اپوزیشن کے اعترضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میاں اعجاز شفیع نے جو باتیں کہیں ان میں ایک بھی درست نہیں، پنجاب میں بارہ لاکھ کسان کارڈ اور بیس ہزار ٹریکٹر دیئے گئے ۔اس موقع پرایوان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان نے شورشرابا اور نعرے بازی شروع کردیا۔مریم اورنگزیب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ تعلیم کا بجٹ 30 ارب سے 130ارب کیا گیا ،سکولزکالجز اور تعلیم میں اس کی مثال نہیں ملتی،صحت کا ڈویلپمنٹ بجٹ 15ارب سے 100ارب پر جاچکا ہے،ہمارے پاس عوام کو دکھانے کے لئے بہت کچھ ہے ،جب جب (ن) لیگ کی حکومت آئی کارکردگی دکھانے کے لئے بہت کچھ ہے ،،مزید تیس ہزار ٹریکٹر دیئے جارہے ہیں،زرات کا بجٹ 80بلین ہے،یہ بیس سالوں میں سب سے زیادہ بجٹ ہے، یہ بل قائمہ کمیٹی سے ہوکر آیا ہے ،پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل تمام چیزوں کو پروموٹ کرے گا اور پوری طرح سے ریگولیٹ کرے گا،وزیر اعلی پنجاب ٹورازم کے اندر اہم کردار ادا کررہی ہیں،اس کے اندر فلم سکول ، میوزک سکول ، پروڈکشن ہائوسز بناجارہے ہیں،ہم سنا کرتے تھے کہ پاکستان دہشتگرد ملک ہے ،اس کی وجہ تھی کہ ٹورازم اور فلم انڈسٹری صحیح طرح کام نہیں کرسکی،پاکستان میں فلم پروڈکشن کی کوئی جگہ نہیں تھی،ساری دنیا نے اپنی سکرین پروڈکشن میں پیسہ لگایا ہے، بلین آف ڈالرز کا یہ سیکٹر مفلوج پڑا تھا،وزیر اعلی پنجاب کا یہ فلم پروگرام بہت سے مسائل کو حل کرے گا،پاکستان کا فلم میکر پروڈیوسر ریونیو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔سپیکر نے کہامریم اورنگزیب آپ کا جواب آگیا ہے،جس پر مریم اورنگزیب نے کہانہیں ابھی میں نے بات کرنی ہے ابھی آوازیں آئیںگی،جس پراپوزیشن اراکین اپنی نشستوںپر کھڑے ہو گئے۔ سینئر وزیر نے مزید کہا کہ معرکہ حق پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو سلام پیش کرتے ہیں،ابھی میں نے اچھی طرح بات نہیں کی۔ اپوزیشن رکن کرنل (ر) شعیب نے کہا کہ سینئر وزیر سال کے بعد اس ایوان میں آرہی ہیں،اس وقت پاکستان میں پچیس ملین بچیسکول سے باہر ہیں، ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے یا فلم انڈسٹری پر توجہ دینی چاہیے ۔بعد ازاںپنجاب اسمبلی کے ایوان نے فلم سٹی اتھارٹی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظورکرلیا ۔سینئر وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ایک سال تک پنجاب کی تمام یوسیزکو سیف سٹی میں شامل کیا جائے گا، پنجاب حکومت ڈیڑھ سال سے کوئی ڈیزل اور پیٹرول گاڑی نہیں خرید رہی،آئندہ تمام گاڑیاں ماحول دوست خریدی جائیں گی ،کسانوں کو سپر سیڈر فراہم کئے گئے ،بھٹوں کو زیک زیگ ٹیکنالوجی پر شفٹ کیا گیا ۔ پنجاب اسمبلی میں پنجاب ماحولیاتی تحفظ(ترمیمی)بل 2026 بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ مریم نواز نے پنجاب کی عوام کی بہترین خدمت کی ۔اپوزیشن کی جانب مریم اورنگزیب کی تقریر کے دوران کورم کی نشاندھی کردی گئی اور شور شرابہ شروع ہو گیا،حکومتی ارکان نے بھی جوابی نعرے بازی شروع کردی ،مریم اورنگزیب نے تقریر چھوڑ کر مریم ،مریم کے نعرے لگانے شروع کر دئیے ۔ایوان نے پنجاب تحفظ جنگلی حیات بل 2026 بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا ، دونوں بل سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی جانب سے پیش کئے گئے ۔، پنجاب اسمبلی کے اجلاس کاوقت ختم ہونے پر اجلاس آج جمعرات مورخہ 30اپریل دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔




