ایران امریکہ جنگ سے پاکستانی معیشت پر بُرے اثرات مرتب (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ خطے میں کشیدگی جلد ختم ہو گی اور امن قائم ہو گا جبکہ پاکستان کی امن کیلئے کوششیں مسلسل جاری رہیں گی تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی جنگ نے ہماری دو سال کی اجتماعی معاشی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچایا تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ہمیں بھی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ کے ارکان کو صورت حال پر اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں اہم واقعات ہوئے امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان نے بات چیت کا جو طویل سلسلہ 11 اپریل کی رات شروع کرایا وہ 21 گھنٹے طویل تھا یہ میراتھن سیشن تھا جس کے لیے بے پناہ کاوشیں کی گئیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور دن رات کاوشیں کیں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصوبوں کے ساتھ مصروف رہے ہماری بے پناہ کاوشوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی جو ہنوز جاری ہے وزیراعظم نے کہا کہ اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اپنی ٹیم کے ساتھ آئے ان کے ساتھ بھی میراتھن سیشن ہوئے ہفتہ کے روز بھی وہ مجھ سے ملے دو گھنٹے کی ملاقات میں سیر حاصل گفتگو ہوئی وزیر داخلہ کا بھی اس حوالے سے کردار اہم رہا ایرانی وزیر خارجہ عمان بھی گئے اور واپس پاکستان آئے پھر روس گئے ان سے میری فوت پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اخلاص سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور مشورہ کر کے جواب دیں گے وزیراعظم نے بتایا کہ اس دوران خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ہمیں بہت سے چیلنجنگ کا سامنا ہے لیکن اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں جنگ سے پہلے ایک ہفتے کا پٹرولیم بل جو 300 ملین ڈالر ہوتا تھا آج 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے حکومت کفایت شعاری اقدامات اور بچت کے ذریعے کوشاں ہے اس کیلئے ٹاسک فورس بھی بنائی جو صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے حکومتی اقدامات کی بدولت کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے وزیراعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے پاکستان کی معیشت میکرولیول پر پائوں پر کھڑی ہو گئی تھی اور ہم گروتھ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن جنگ سے بے تحاشا متاثر ہوئے ہیں اور معاشی بہتری کیلئے ہماری دو سال کی اجتماعی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ہمارے اختیار سے باہر تھا وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنائیں اس سلسلے میں ہماری کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد ہم پھر سے معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیں گے! بے شک ایران امریکہ جنگ کے بعد مہنگے تیل نے پاکستان کے معاشی استحکام پر منفی اثرات مرتب کئے تاہم موجودہ حکومت اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے اور ایک بھر پور معیشت کو صحیح سمت گامزن کیلئے پُرعزم ہے انشاء اﷲ وہ دور بھی جلد آئے گا جب امریکہ ایران کشیدگی کا خاتمہ ہو گا اور دونوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو گا جس سے خطے میں امن ہو گا آبنائے ہرمز کھل جائے گی تیل سمیت دیگر تجارتی مال کی آمدورفت جاری ہو جائے گی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی کمی واضح ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں