پاکستان کا بطور ثالث سفارتی کردار (اداریہ)

ایران امریکہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کی دھوم مچی ہوئی ہے عالمی راہنمائوں نے بھی پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کی ہے ماضی کی نسبت موجودہ دور میں ریاستوں کی حیثیت صرف عسکری قوت یا معاشی طاقت نہیں بلکہ سفارتی اور عالمی امن کیلئے ان کے کردار سے دیکھی اور باور کی جاتی ہے پاکستان کی امریکہ ایران جنگ کے دوران سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پہنچنے سے محفوظ رہی امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی ایران نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مثبت جواب دیا یوں مشرق وسطیٰ میں چھائے جنگ کے گہرے بادل چھٹ گئے پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد مستقل جنگ بندی ہو جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے اس وقت پاکستان ایک بحران زدہ ریاست کے تاثر سے نکل کر امن اور مصالحت کے ابھرتے کردار کے طور پر عالمی سطح پر اپنی شناخت منوا رہا ہے تاریخی طور پر پاکستان کو دہشت گردی او خطے کے جغرافیائی تنازعات کا سامنا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت نے حالیہ چند برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کے رجحانات میں واضح تبدیلی کی ہے جس میں تصادم کے بجائے ڈائیلاگ اور کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے یہی رجحان پاکستان کی نئی سفارتی شناخت کی بنیاد بن رہا ہے جس میں پاکستان اپنی سفارتی پالیسیوں کو تسلسل اور طویل حکمت عملی کے ذریعے مستحکم کر رہا ہے ان اقدامات سے ہمیں کئی دور رس فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جس سے امن کے علمبردار کی حیثیت سے پاکستان کا دنیا میں سافٹ امیج ابھرے گا عالمی سطح پر پاکستان کا رسک پروفائل کم ہو گا جس سے توانائی’ انفراسٹرکچر’ معدنیات’ ٹیکنالوجی آئل اور گیس سیکٹر اور آئل ریفائنری کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف ورلڈ بنک’ ایشین ڈویلپمنٹ بنک اسلامک ڈویلپمنٹ بنک اور آئی ایف سی سے مالی مدد حاصل کرنا آسان ہو گا پاکستان کو اقوام متحدہ’ اسلامی تعاون تنظیم’ (OIC) اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے عالمی فورمز پر زیادہ لیڈرشپ ملے گی اور پاکستان علاقائی تنازعات میں ایک کامیاب سہولت کار کے طور پر ابھرے گا پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ اندرونی طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی اور ہم بہتر طور پر اپنے وسائل ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کر سکیں گے پاکستان جغرافیائی طور پر وسط ایشیا مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک تجارتی اور لاجسٹک ہب کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے پاکستان پر عالمی راہنمائوں کا اعتماد قائم ہوا ہے اور دنیا پُرامید ہے کہ پاکستان امریکہ ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں کامیاب ہو گا۔ اگر پاکستان نے امریکہ ایران کے درمیان قیام امن کے حوالے سے معاہدہ کرا دیا تو پاکستان کی اہمیت میں اور اضافہ ہو گا۔ خدا کرے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل جائے اور خطے میں امن کی فضا قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں