قیمتی پتھروں کی برآمدات’ خوش آئند حکومتی فیصلہ (اداریہ)

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ملک میں قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پراسیسنگ کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے اور برآمدات میں اضافے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کو برآمدی معیشت کا حصہ بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جائیں، قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی سے متعلق ایک اہم اجلاس کے دوران ملک میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات بڑھانے کیلئے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزرائ’ اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، ملک میں قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پراسیسنگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کیلئے حکومتی کوششیں قابل تحسین ہیں، اس حقیقت سے ہر خاص وعام آگاہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص قیمتی پتھروں کی دولت سے مالامال ہے اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں مقامی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے جو ہدایات جاری کیں ان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی سستی ولاپرواہی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات بڑھانے کیلئے وزارت منصوبہ بندی فوری طور پر ایک جامع لائحہ عمل طے کرے اور اسے عملدرآمد کیلئے جلد پیش کیا جائے، انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ حکومت قیمتی پتھروں کی کٹائی’ تراش خراش اور زیورات سازی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے تین سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کر رہی ہے جن کے لیے اراضی مختص کی جا چکی ہے’ ان مراکز میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ مقامی افرادی قوت کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے، اس کے علاوہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اجلاس میں بتایا گیا کہ چین اور سری لنکا کے تعاون سے مخصوص پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے تربیتی پروگرامز شروع کئے جا رہے ہیں جبکہ کان کنی کے جدید طریقوں کو فروغ دینے کیلئے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور ایک ہزار افراد کو عالمی معیار کے مطابق کان کنی کی تربیت دی جا رہی ہے، وزیراعظم کو منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت اور تکمیل کے شیڈول سے بھی آگاہ کیا گیا، یہ بات خوش آئند ہے کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کو برآمدی معیشت کا اہم حصہ بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی طے کر لی گئی ہے، امید ہے کہ اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا جس سے ملک میں معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے گا جبکہ موجودہ عالمی بحران کے اثرات سے نجات حاصل کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی، واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایک فیصد اضافے کے ساتھ ملک میں شرح سود ساڑھے گیارہ فیصد کر دی گئی ہے، یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا جیسا کہ مانیٹری کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے میکرواکنامک آئوٹ لک کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر توانائی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں’ مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم اب پہلے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، علاوہ ازیں سپلائی چین میں تعطل نے بے یقینی میں اضافہ کیا ہے، ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات آنے وقت میں اہم معاشی اشاریوں پر ظاہر ہوں گے، یہ بات قابل تحسین ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے، امید ہے کہ یہ کوششیں ضرور کامیاب ہونگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس صورتحال سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے شعبے کو برآمدی معیشت کا حصہ بنانے کا جو فیصلہ ہے وہ خوش آئند ہے اور اس سے ملک میں معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں