مہنگائی کا نیا وار،موبائل فونز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) مہنگائی کی نئی لہر نے ٹیکنالوجی مارکیٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں موبائل فون خریدنا عام صارف کے لیے مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات اب براہِ راست الیکٹرانکس سیکٹر میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جس سے خریداروں کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث موبائل فون انڈسٹری کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف کمپنیوں نے موبائل فونز کی قیمتوں میں تین سے پانچ ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پیداواری اور ترسیلی اخراجات بڑھنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے بعد فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیلرز کے مطابق جہاں پہلے روزانہ دس سے بارہ موبائل فون سیٹس فروخت ہوتے تھے، اب خریداروں کی تعداد کم ہو چکی ہے اور لوگ نئی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔صرف موبائل فونز ہی نہیں بلکہ اس سے متعلقہ ایسیسریز بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ہینڈز فری، موبائل کورز، اسکرین پروٹیکٹرز اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے صارفین پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے اور اشیائے ضروریہ سمیت ٹیکنالوجی مصنوعات بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے دبا میں کچھ کمی لائی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں