آبنائے ہرمز کشیدگی کے اثرات دنیا بھر میں دکھائی دے رہے ہیں اور اس کے باعث پاکستان میں مہنگائی 20 ماہ کی بلند ترین سطح 10.9 فیصد پر پہنچ گئی ہے، ایندھن بحران سے ٹرانسپورٹ وتوانائی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا، مہنگائی شرح ایک سال قبل صرف 0.28 فیصد تھی، بجلی’ گیس’ رہائش مزید مہنگی اور خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اپریل میں پاکستان کی مہنگائی کی شرح 20 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 10.9 فیصد ہو گئی، جو ایک سال قبل صرف 0.28 فیصد تھی، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سپلائی میں خلل نے ایندھن’ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) اپریل میں سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد سے بڑھ کر 10.9 فیصد ہو گیا، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ شرح اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر گئی جبکہ اس سے چار روز قبل مرکزی بینک نے اپنی بنیادی شرح سود بڑھا کر 11.5فیصد کر دی تھی۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو سالانہ بنیاد پر 12.5 فیصد سے بڑھ کر 29.9 فیصد ہو گئے۔ رہائش اور یوٹیلیٹیز کے اخراجات 11.5 فیصد سے بڑھ کر 16.8 فیصد’ جبکہ خوراک اور غیر الکوحل مشروبات 3.6 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد ہو گئے۔ ماہانہ بنیاد پر صارف قیمتوں میں اپریل میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ نو ماہ میں سب سے زیادہ ہے جبکہ مارچ میں یہ شرح 1.2 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق اپریل میں یہ اضافہ مقامی توانائی اخراجات کے خطرات کو ظاہر کرتا ہے، جو اب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے مزید بڑھ گئے ہیں اور خبردار کیا کہ تیل کی درآمدی لاگت بڑھنے سے روپے پر دبائو پڑ سکتا ہے اور آئندہ مہینوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مزید قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہول سیل پرائس انڈیکس، جو عموماً تاخیر سے ریٹیل مہنگائی میں شامل ہوتا ہے، گزشتہ ماہ کے 6.7 فیصد سے تقریباً دگنا ہو کر 13.6 فیصد ہو گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیداواری لاگت کا مکمل بوجھ ابھی صارفین تک منتقل نہیں ہوا۔ بنیادی مہنگائی’ جس میں خوراک اور توانائی کو شامل نہیں کیا جاتا، میں بھی اضافہ ہوا۔ شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد سے بڑھ کر 8.0 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 8.4 فیصد سے بڑھ کر 8.5 فیصد ہو گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں کا دبائو توانائی کے شعبے سے نکل کر دیگر شعبوں تک پھیل رہا ہے خوراک میں ٹماٹر کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد 75.4 فیصد، پیاز 41.7 فیصد’ گندم 39.4 فیصد’ آٹا 30.6 فیصد اور تازہ سبزیوں میں 25.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گوشت 12.5 فیصد مہنگا ہوا۔ کچھ اشیاء میں کمی بھی دیکھی گئی، جن میں آلو 37.5 فیصد سستا ہوا، چینی 11 فیصد، مرغی 12.8 فیصد اور گھی’ دالوں کی قیمتوں میں 11 سے 17 فیصد تک کمی آئی۔ غذائی اشیاء کے علاوہ شعبے میں مائع ایندھن 63.4 فیصد، موٹرفیول 40.2 فیصد بجلی کے نرخ 33.7 فیصد اور گیس کے نرخ 22.9 فیصد بڑھ گئے۔ اپریل کے اضافے کے باوجود موجودہ مالی سال کے 10 ماہ کی اوسط مہنگائی 6.19 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ اسال اسی عرصے میں یہ 5.67 فیصد تھی۔ اگر مشرق وسطیٰ میں سپلائی میں خلل برقرار رہا تو اس فرق میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پائے اور عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کیلئے جو بھی کیا جا سکے، ضرور کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے۔




