ایس ایس پی (ر) چوہدری فاروق ہندل کو میں ذاتی طور پر اس وقت سے جانتا ہوں، جب وہ سب انسپکٹر تھا’ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایس ایس پی کے عہدے پر پہنچا البتہ میری ان سے ملاقات نہ ہونے کے برابر رہی، اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ اس نے جس انداز میں کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، اگرچہ جرائم پیشہ عناصر کو نکیل ڈالنے کیلئے پولیس کو بڑے جتن کرنا پڑتے ہیں، چوروں اور ڈاکوئوں کے گروہوں کو پکڑنا آسان کام نہیں ہے جبکہ انہیں گرفت میں لانے کے بعد ان کے جرائم کی تفتیش کر کے حقیقت حال تک پہنچنے کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، ایس ایس پی چوہدری فاروق ہندل نے کئی کیسز میں بہترین انویسٹی گیشن کر کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا، وہ DSP ڈجکوٹ کے منصب پر فائز تھے کہ جہانگیر کلاں میں معصوم بچی کے قتل کی لرزہ خیز واردات نے ہر شخص کو تڑپا کر رکھ دیا، چوہدری فاروق ہندل نے کیس کی حد تک خود انویسٹی گیشن کی اور جس طرح قاتل تک پہنچے، آلہ قتل اور نعش کی برآمدگی کس طرح کروائی’ یہ سب کچھ جانیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں جس طرح احسن انداز سے سرانجام دیں وہ قابل تحسین ہے، موصوف محکمہ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی بسر کر رہے تھے کہ ایک جھگڑا بڑھتے ہوئے تہرے قتل کے المناک واقعہ کا باعث بن گیا، ایس ایس پی (ر) چوہدری فاروق ہندل نے تھانہ لنڈیانوالہ کے نواحی گائوں 651 گ ب میں زرعی وکیٹل فارم بنا رکھا ہے، چند روز قبل گندم کی کٹائی کے دوران گائوں ہی کے رہائشی ناصر چدھڑ گروپ کی بھینس سابق ایس ایس پی چوہدری فاروق احمد ہندل کے زرعی رقبہ میں چلی گئی جس پر دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا جس کے دوران سر میں کلہاڑی کا وار لگنے سے چوہدری فاروق ہندل شدید زخمی ہو گئے، مبینہ طور پر سابق ایس ایس پی نے اپنے بھتیجے احتشام کے ہمراہ فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر ناصر علی اور اس کا بیٹا امتیاز موقع پر ہی دم توڑ گئے، مقتول ناصر علی کا بھائی جعفر حسین زخمی ہو گیا جسے تشویشناک حالت کے پیش نظر ہسپتال ریفر کیا جا رہا تھا کہ وہ راستہ میں ہی چل بسا، تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد صاحبزادہ بلال عمر نے ایس پی ٹائون سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد نعشوں کو ورثاء کے حوالے کر دیا جبکہ پولیس تھانہ لنڈیانوالہ نے تہرے قتل کے الزام میں ایس ایس پی (ریٹائرڈ) اور اس کے بھتیجے کو حراست میں لے لیا ہے، ان کی گرفتاری پر کئی لوگوں نے اپنے انداز میں تبصرے کئے ہیں۔ کیسی عجب منافقت ہے کہ جب کسی سے کوئی مفاد ہو اور وہ بااختیار ہو تو خوشامدیوں کی زبانیں اسکی تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں بقول میاں محمد بخش رحمة اﷲ علیہ کم ہووے تے نور محمد،،،، نیں تے نورا، آج جو لوگ چوہدری فاروق ہندل سابق SSP کے متعلق زہر اگل رہے ہیں اور بغیر کسی تحقیق بغیر شواہد کے انکی ذات پر کیچڑ اچھال رہے ہیں’ ماضی قریب تک ان میں سے اکثر زبانیں اور ان کی تحریریں موصوف کی تعریف وتوصیف بیان کر رہی تھیں، پولیس ڈیپارٹمنٹ کی یہ بدقسمتی ہے کہ انکے حصے میں تعریفیں کم ہی آتی ہیں’ جس کا باعث اس میں بعض گندے پولیس افسروں کی زیادتیاں اور ظلم و ستم کے قصے ہیں، تھانہ لنڈیانوالہ کے نواحی گائوں میں تہرے قتل پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا بھی ملنا چاہیے، میرٹ پر تفتیش ہونی چاہیے، ملزمان جتنے مرضی بااثر ہوں سزا سے نہیں بچنے چاہئیں، ہماری کسی بھی مجرم کیساتھ کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں لیکن دوستوں سے درخواست ضرور ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی زبان اور اپنی تحریر کو اپنے قابو میں ضرور رکھیں کیونکہ جو لوگ آج فاروق ہندل کو سب سے بڑا ظالم پولیس افسر ثابت کر رہے ہیں وہ دوسری جانب حاضر سروس پولیس افسران کی قصیدہ گوئی میں بھی مصروف نظر آتے ہیں صرف یہ کہنا ہے کہ منافقت نہ کیجئے۔ ظفر اورا سابق پولیس انسپکٹر ہیں اور وہ بھی عجب منافقت پر افسردہ ہیں’ ان کا کہنا ہے کہ میں نے چوہدری فاروق احمد ہندل ایس ایس پی (ر) کے ماتحت سروس کی ہے، ابھی میری نظر سے سوشل میڈیا پر بے شمار آراء اس وقوعہ کے متعلق دیکھنے کو ملیں، ایک صاحب نے خود کو سابق SHO نور شاہ ساہیوال بتایا جبکہ ایک گروپ میں کسی ڈی ایس پی (ر) نے پولیس گروپ میں لکھا ہے کہ ”آخر کار فاروق ہندل کا غرور تکبر انجام کو پہنچا” کسی بھی جرم کے حوالے سے کوئی کسی کو گنہگار یا بے قصور قرار نہیں دے سکتا، اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہوتا ہے مگر اس واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو تذکرے دکھائی دے رہے ہیں، ان سے ہمارے قول وفعل کا تضاد کھل کر سامنے آ گیا ہے، کل تک جو لوگ ایس ایس پی (ریٹائرڈ) چوہدری فاروق ہندل کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج وہی ان پر طرح طرح کے الزام عائد کرنے لگے ہیں، قول وفعل میں تضاد کو اگر منافقت کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، منافقت یہی ہے کہ دل ودماغ میں جو سوچ ہو، زبان سے اس سوچ کے برعکس اظہار کیا جائے، قول وفعل کا تضاد ہمیں بحیثیت قوم پستی کے اس مقام تک لے آیا ہے، جس سے نکلنا مشکل نظر آنے لگا، اس کے لیے من حیثت القوم ہمیں جدوجہد کرنا ہو گی، اپنے عمومی رویے کو بدلنا ہو گا، جب یہ بات واضح ہو گئی کہ قول وفعل کا تضاد منافقت کی سیڑھی ہے تو پھر یہ کام بہت قابل توجہ ہے، منافقت ایک بڑی اور مہلک بیماری ہے، یہ صرف اخلاقی بیماری نہیں بلکہ انسانی شخصیت کو کھوکھلا کرنے والا زہر ہے، منافقت سے معاشرے میں بے اعتمادی’ انتشار اور جھوٹ کو فروغ ملتا ہے، یہ انسانیت کے باطن کو تاریک کر دیتی ہے اور اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص جھوٹ’ دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی سمیت تمام برائیوں سے بچنے پر مکمل توجہ دے، یقینی طور پر اس سے منافقت کا خاتمہ ہو گا اور مثالی معاشرے کی تشکیل میں بڑی مدد ملے گی۔




