فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) لاک ڈائون فوری طور پر ختم کیا جائے’ چھوٹے تاجر اور عوام پہلے ہی ہوشربا مہنگائی کی زد میں ہیں اوپر سے رات 8 بجے زبردستی دکانیں کروائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے چھوٹا تاجر تباہ ہو گیا ہے’ ان خیالات کا اظہار فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سے گروپ لیڈر رانا محمد سکندراعظم خاں’ صدر چوہدری عاصم حبیب سپرائ’ سپریم انجمن تاجران کے صدر الحاج محمد اسلم بھلی’ جنرل سیکرٹری رانا ایوب اسلم منج’ کوارڈی نیٹر حاجی محمد عابد و دیگر مقررین نے ماہانہ اجلاس کے شرکاء سے کیا’ اجلاس میں جنرل سیکرٹری محمد اویس اقبال’ چوہدری مقصود جٹ’چوہدری حبیب الرحمن گل’ ملک محمد علی’ملک وقاص احمد’ ملک اعجاز احمد’ میاں نذاکت علی’رانا طاہر شہزاد’ محمد علی ڈوگر’ حاجی محمد انور’ رانا طارق عزیز’ محمد فاروق گل ‘چوہدری آصف حبیب’ آصف منیر گورائیہ’ ملک اعجاز احمد’ خرم شہزاد’ چوہدری امتیاز کمبوہ کے علاوہ ایسوسی ایشن کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی’ مقررین نے کہا کہ حکومت آئے دن عوام پر پٹرولیم بم گرا رہی ہے’ اب زخموں سے چور عوام میں اور بم کھانے کی سکت نہیں رہی’ خدارا پٹرولیم مصنوعات میں فل الفورکمی جائے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے’ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ہر روز ایک انڈسٹری بند ہورہی ہے’ ہر روز ایک کارخانے کو تالے لگ رہے ہیں اور آئے دن لوم فیکٹریاں تباہ ہو رہی ہیں’ مقررین نے کہا کہ چند مہینوں میں سینکڑوں ٹیکسٹائل یونٹس’ سپننگ ملز اور جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور لوکل انویسٹر خوف اور غیریقینی کیفیت میں سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مزدور بیروزگار ہو گیا ہے’ گذشتہ تین ماہ میں 150 ملیں اور فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں’ روزگار ختم ہونے کی وجہ سے غریب آدمی کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے’ ہماری حکومت سے دردمندانہ اپیل ہے کہ آئی پی پیزسے بجلی کے معاہدے ختم کئے جائیں اورفیکٹری’ ملوں اور انڈسٹری کو ریلیف دیا جائے’ بجلی کے ریٹس فوری طور پر خاطر خواہ کم کئے جائیں تاکہ ٹیکسٹائل ملیں پھر سے چلیں اور مزدور کو مزدوری ملے’ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو بیروزگار مزدو سڑکوں پر نکلے گا اور احتجاج کا راستہ اختیار کرے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی منصوبہ سازوں پر ہو گی۔




