”پنجاب ڈویلپمنٹ پلان” پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت (اداریہ)

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں پنجاب کے 52شہروں کی تزئین وآرائش اور اپ گریڈیشن پر ہونیوالی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ 51شہروں میں 40 فیصد موسٹ کریٹیکل ورک مکمل کر لیا گیا ہے، اجلاس میں ”پنجاب ڈویلپمنٹ پلان” پر پیشرفت کی رپورٹ پیش کی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے پنجاب کی تعمیر وترقی اور عوام کو جدید بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے قابل قدر اقدامات اٹھائے ہیں اور صوبہ بھر کے 52شہروں کی تزئین وآرائش اور اپ گریڈیشن کا کام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے او رپنجاب میں ترقی کا پہیہ اب رکنے والا نہیں’ وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جو کہا’ ان کی حکومت وہ کام کر کے دکھا رہی ہے جو کہ نہایت خوش آئند بات ہے، پنجاب کے 51شہروں میں بارشی پانی کے نکاسی کا اوسطاً 40فیصد اہم ترین کام مکمل کر لیا گیا ہے، کمالیہ میں 70فیصد’ گوجرہ میں 65فیصد بارشی پانی کی نکاسی پراجیکٹ کو ریکارڈ سپیڈ کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے، پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے تحت ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چیچہ وطنی میں 55 فیصد کریٹیکل ورک مکمل کر لیا گیا، جوہر آباد اور جلال پور جٹاں میں 44 فیصد نکاسی آب کا کام مکمل کیا گیا ہے، گجرات میں بڑی مقدار میں پانی ڈرین کیا گیا، ان اقدامات سے مون سون میں صورتحال کی بہتری یقینی ہو جائے گی، مون سون سے قبل جو پیشگی تیاریاں کی جا رہی ہیں ان پر جس تیز رفتاری سے کام جاری ہے اسے سراہا جانا چاہیے مگر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ تیزی سے کام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معیار بھی برقرار رکھا جائے اس سلسلے میں کڑی نگرانی ضروری ہے اور کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، یہ بات قابل تحسین ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس میں وارننگ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ہر کام پرفیکشن کے ساتھ ہونا چاہیے، نتائج دینا آپ کی ذمہ داری ہے، تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں ترقیاتی خلاء کی نشاندہی کریں اور جامع پلان لائیں، انہوں نے ڈی سیز کو صاف پانی’ بیوٹیفکیشن اور مثالی گائوں پروگرام کی مانیٹرنگ خود کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل کا حکم دیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے دوران یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ جو سڑکیں توڑی گئی ہیں انہیں فوری مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو دشواری نہ ہو، ترقیاتی کاموں کو ادھورا چھوڑ دینے سے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، دیکھنے میں یہ بھی آتا رہا ہے کہ ٹھیکیدار ترقیاتی کاموں کے لیے سڑکیں توڑ کر غائب ہو جاتے ہیں، یہ بات قطعی طور پر ناقابل برداشت ہونی چاہیے، ترقیاتی کاموں کی معیاری اور بروقت تکمیل ضروری ہے اور جو کوئی بھی اس سلسلے میں سستی’ غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرے، اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنی ہے، امید ہے کہ اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں