پٹرول،ڈیزل مہنگاہونے کے بعد پٹرولیم لیوی کی شرح میں بڑا اضافہ

اسلام آباد(بیوروچیف) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی کی شرح بھی بڑھا دی۔ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں13 روپے 91پیسے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا، پٹرول پر لیوی اضافے کے بعد117روپے41 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی۔ہائی سپیڈ ڈیزل پرپٹرولیم لیوی 42روپے60پیسے فی لٹرکردی گئی، ہائی سپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن میں 9 روپے 38 پیسے فی لیٹرکی کمی کی گئی، ہائی سپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن کم کرکے 7 روپے 75 پیسے کر دیاگیا ہے۔اس سے قبل حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔حکومت نے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا، مٹی کا تیل 41 روپے 80 پیسے فی لٹر سستا کردیا گیا ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 318 روپے96 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 21 روپے 7پیسے فی لیٹر کمی کی گئی جس سے نئی قیمت 287 روپے 54پیسے سے گر کر 265 روپے 84 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔اس کے برعکس جہازوں میں استعمال ہونے والا ایندھن جیٹ 53 روپے 11 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا ہے، جیٹ فیول کی قیمت 388 روپے 55 پیسے سے بڑھا کر 441 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔دریں اثناء ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر براہِ راست اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی اپنے کرایوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 4 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹر رہنما ملک شہزاد اعوان کے مطابق حکومتی اقدامات نے ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ گاڑیاں کھڑی کرنا پڑ رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور چالان فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے جبکہ گڈز ٹرانسپورٹرز کو کسی قسم کی سہولت یا ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں