بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) فالج جسے دماغی عروقی حادثہ بھی کہا جاتا ہے دنیا بھر میں موت کی چوتھی بڑی وجہ پایا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون کی فراہمی میں خلل پڑتا ہے۔ جمنے کے ذریعے خون کیفراہمی میں رکاوٹ شریان میں ہو سکتی ہے اور دوسری صورتوں میں دماغ کے بافتوں میں خون بہہ سکتا ہے۔ فالج کا علاج فوری طور پر کروایا جانا چاہیے کیونکہ فالج کے مریضوں کے علاج کا موقع صرف تین گھنٹے کا ہوتا ہے۔فالج کے شکار فرد کا فوری علاج نہ ہو تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر اور علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔فالج کی 2 اقسام ہیں ایک برین ہیمرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہوجاتی ہے جس سے آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔فالج کا سامنا ہر فرد کو ہوسکتا ہے مگر اس کا خطرہ ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے۔55 سال کی عمر کے بعد ہر 10 سال بعد فالج کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے جبکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ہائی کولیسٹرول سے بھی فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔اب ایک نئی تحقیق میں چند ایسی علامات کے بارے میں بتایا گیا ہے جن سے فالج کا عندیہ کافی عرصے پہلے ہی مل جاتا ہے۔چین کے Zhejiang یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مسلز کے حجم میں کمی، ہاتھوں کی کمزور گرفت اور سست روی سے چلنے سے کسی فرد میں فالج کے خطرے میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کے مسلز کی مضبوطی گھٹ جاتی ہے، ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح ہاتھ کی کمزور گرفت سے فالج کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق چلنے کی سست رفتار سے فالج کا خطرہ 64 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔یہ سب سے افراد شروع میں فالج سے محفوظ تھے اور پھر ان کی صحت کا جائزہ کچھ برسوں تک لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مسلز کے حجم میں کمی، ہاتھ کی گرفت میں کمزوری اور چلنے کی رفتار میں کمی اور فالج کے زیادہ خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے۔محققین نے بتایا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ مسلز کی مضبوطی اور حجم میں قدرتی طور پر کمی آتی ہے مگر ایسا بہت زیادہ تیزی سے ہو تو یہ فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کرتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جسم کمزو ہو رہا ہے، ورم بڑھ رہا ہے جبکہ میٹابولزم افعال تبدیل ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلز کی کمزوری فالج کے زیادہ خطرے کی پہلی انتباہی علامت ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چلنے کی رفتار میں کمی فالج کے زیادہ خطرے کے حوالے سے زیادہ ٹھوس علامت ہوتی ہے کیونکہ اس سے مجموعی صحت متاثر ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔فالج کی یہ عام علامات اچانک نمودار ہوتی ہیں جس کے دوران جسم کا ایک حصہ سن ہوجاتا ہے یا چلنا ممکن نہیں ہوتا، بات کرنا مشکل ہوجاتا ہے یا لوگوں کی بات سمجھ نہیں آتی، ایک جانب سے چہرہ ڈھلک جاتا ہے اور مسکرانا ممکن نہیں ہوتا، ذہنی الجھن، سر چکرانا اور ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی تبدیل ہوجانے جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔خواتین میں فالج کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں جیسے سردرد، ذہنی کیفیت بدل جانا، کوما اور شعور نہ رہنا وغیرہ۔براہ کرم یاد رکھیں کہ اسپرین جیسی کوئی بھی خود ساختہ دوا نہ لیں۔ یہ ہمیشہ فالج کا حل نہیں ہے اور حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ جیسے ہی آپ یا آپ کے پیارے کو فالج کی ان علامات میں سے کسی کا تجربہ ہوتا ہے، ہسپتال پہنچیں اور علاج کے لیے آن لائن ڈاکٹر بک کریں۔فالج ایک اچانک حملہ ہے جس میں بہت کم انتباہی علامات ہیں۔ آپ فالج کے ہونے کو روک نہیں سکتے لیکن مریض یا خود کو وقت کے اندر ہسپتال پہنچا کر اسے مزید خراب کرنے کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ فالج کا ابتدائی علاج بہت ضروری ہے کیونکہ جب آپ ان میں سے کوئی فالج کی انتباہی علامات دیکھتے ہیں تو ہر دوسری گنتی فالج کے علاج کے لیے ہندوستان کے بہترین نیورولوجسٹ سے ملتی ہے۔




