فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) انٹرنیشنل تھیلا سیمیا ڈے کے موقع پر امراضِ خون کے علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے اور ان سے بچائو کے حوالے سے آگاہی پھیلانے والے ادارے علی زیب فائونڈیشن کے زیرِ اہتمام ضلع کونسل سے چوک گھنٹہ گھر تک ایک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن تنویر مرتضی نے قیادت کی۔تھیلاسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین، وکلا، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، مختلف یونیورسٹیوں، کالجز اور اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے بھی بھرپور شرکت کی۔واک میں ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد علی زیدی، ڈائریکٹر سعد اللہ شاہد، کوآرڈینیٹر مس صائمہ، ملک شبیر حسین، آفتاب احمد خان،ذوالفقار علی بخاری، مرزا الیاس بیگ اور دیگر اراکین بھی شریک تھے۔اس موقع پر واک کے شرکاء اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید شاہد علی زیدی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ آج بھی پاکستان میں ہر سال 6000سے زائد بچے تھیلاسیمیا میجر کے مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اس بیماری کے متعلق موثر آگاہی مہم چلا کر اپنی اقوام کو اس مرض سے محفوظ بنا لیا ہے، تاہم پاکستان اب بھی اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پانچ فیصد سے زائد افراد تھیلاسیمیا کے کیریئر ہیں اور مناسب آگاہی نہ ہونے کے باعث اس مرض پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔کوآرڈینیٹر مس صائمہ نے بتایا کہ ادارہ اس وقت پنجاب کے پانچ شہروں میں امراضِ خون میں مبتلا 8500 سے زائد مریضوں کو بہترین طبی سہولیات اور خون کی منتقلی کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم اس مسئلے کا مستقل حل یہی ہے کہ عوام میں تھیلاسیمیا کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تھیلاسیمیا کے کیریئر افراد آپس میں شادی نہ کریں۔




