اسٹیٹ بنک کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے دسمبر 2027تک ملک کے بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی ماڈل میں بتدریج تبدیل کرنے کی ہدایت کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات میں اسلامی بینکاری کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ان کوششوں کے ایک حصے کے طور پر اسٹیٹ بینک اسکولوں، کالجوں، مدارس، یونیورسٹیوں، ڈاکٹروں، انجینئرز، اور کارپوریٹ تنظیموں سمیت مختلف طبقات کے لیے سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی سیشنز کا انعقاد کر رہا ہے۔اس اقدام کے تسلسل میں حال ہی میں فیصل آباد میں ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت پولیس اہلکاروں کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں 200 کے قریب عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان فیصل آباد کے ڈپٹی چیف منیجر احمد بلال نے اسلامی بینکاری کے فروغ کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے وژن کو بیان کیا اور عوام اور پیشہ ورانہ کمیونٹیز میں آگاہی بڑھانے کے لیے اس کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔اسلامی اور روایتی بینکاری کے درمیان فرق پر ایک تکنیکی سیشن شریعہ کے مشیر عبدالباسط نے پیش کیا، جس نے اسلامی بینکاری کے کام کرنے کے طریقہ کار، بنیادی اصولوں اور امتیازی خصوصیات کی وضاحت کی۔شرکا ء نے اس اقدام کو سراہا اور اسلامی مالیاتی اصولوں کو سمجھنے اور بینکاری کے شعبے میں ان کے عملی اطلاق میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے تعاون کا یقین دلایا ۔ایس بی پی بی ایس سی فیصل آباد کی چیف مینیجر محترمہ فوزیہ اسلم نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اسلامی بینکاری کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مفتی محمد نوید عالم نے کلیدی خطبہ دیا جس میں اسلامی بینکاری اور مالیات کے اہم اصولوں اور امکانات کا احاطہ کیا گیا۔احمد بلال عارف، ڈپٹی چیف منیجر، نے شکریہ کے کلمات کے ساتھ سیشن کا اختتام کیا خواجہ یاسر قیوم (صدر، سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)، نثار علی(قائم مقام صدر، سرگودھا سمال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز) اور عبدالقیوم (صدر، جھنگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز)نے ایس بی پی یا ایف اے بی ایس سی کے سیشن میں مزید دلچسپی کا اظہار کرنے کی تعریف کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں