بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان پر اسرائیلی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے کہا ہے کہ اسرائیلی بموں سے نکلنے والے مہلک دھاتی ذرات لبنان میں زخمی ہونے والے شہریوں کے جسموں سے بھی برآمد ہو رہے ہیں، جو اس سے قبل غزہ میں شدید اندرونی زخموں کا سبب بن چکے ہیں۔سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے زخمیوں کے جسموں سے باریک دھاتی ذرات برآمد ہوئے ہیں، جو دھماکے کے بعد جسم کے اندر پھیل کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ننھے ٹنگسٹن کیوبز اسرائیلی بموں سے خارج ہوتے ہیں اور انسانی جسم میں داخل ہو کر اعضا کو بری طرح متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث زخمیوں کا علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر محمد کے مطابق یہی دھاتی ذرات اس سے قبل غزہ میں بھی شہریوں کے جسموں میں پائے گئے تھے، جہاں ان کے باعث تباہ کن اندرونی زخم سامنے آئے۔انہوں نے اسرائیلی ہتھیاروں کو اندھا دھند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیار عام شہریوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ اور لبنان میں بھی ایسے بم استعمال کر چکا ہے جن کے اثرات انسانی جسم پر نہایت مہلک ہوتے ہیں۔دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی تازہ بمباری کے نتیجے میں 2طبی اہلکاروں سمیت مزید 3افراد شہید ہو گئے۔رپورٹس کے مطابق مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 2ہزار 846تک پہنچ چکی ہے۔ادھر حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملے کیے ہیں۔




