سمارٹ لاک ڈاؤن،سدھار میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر،دکاندار پریشان

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سدھار اور گردونواح میں جاری لاک ڈائون اور کاروباری پابندیوں کے باعث تاجروں اور دوکانداروں کا معاشی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ دوکانداروں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ عیدالاضحی تک فوری طور پر لاک ڈائون ختم کر کے کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام اور تاجروں کو مزید معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے تحت نافذ کیے گئے لاک ڈائون پر سدھار اور گردونواح کے تاجروں نے مکمل عملدرآمد کیا اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کیا، تاہم مسلسل کاروباری بندش کے باعث چھوٹے تاجروں اور دوکانداروں کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے، روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ بجلی کے بھاری بھرکم بل، دکانوں کے کرائے اور بچوں کی تعلیمی فیسیں ادا کرنا بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔دوکانداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہزاروں خاندان فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور غربت و بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق دیہی علاقوں میں اس نوعیت کی سخت پابندیوں کی کوئی موثر ضرورت نہیں، کیونکہ چند دکانیں بند کروانے سے حکومتی کفایت شعاری کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جبکہ اس کے برعکس غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی قریب آ رہی ہے اور اس موقع پر اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر کاروبار بند ہونے کے باعث آمدن کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ تاجروں کے مطابق سال بھر عید سیزن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ کچھ مالی مشکلات کم ہو سکیں، لیکن موجودہ حالات میں عوام سے روزگار کا آخری سہارا بھی چھینا جا رہا ہے۔سدھار اور گردونواح کے تاجروں اور دوکانداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازاور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر لاک ڈائون ختم کر کے بازار اور دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں اور عوام کو معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں