خلیجی جنگ کے معاشی اثرات دنیا بھر پر پڑے ہیں اور مملکت خداداد پاکستان میں بھی لوگوں کو ان اثرات کا سامنا ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے اور ایسے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا بیحد ضروری ہے، جس کے بڑے فوائد میں روزگاری کے مواقع پیدا ہونا بھی شامل ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پنجاب حکومت نے لاک ڈائون ختم کرنے کا فیصلہ کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، عیدالاضحی کی آمد آمد ہے اور اس موقع پر بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ جاتا ہے، لوگ عیدالاضحی کی خوشیاں دوبالا کرنے کیلئے بازاروں میں خریداری کے لیے پہنچتے ہیں اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اشیاء ضروریہ خریدتے ہیں تاکہ عیدالاضحی پر اپنے اہلخانہ اور عزیز واقارب کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور اپنی خوشیوں کو دوبالا کر سکیں۔ اس لئے پنجاب حکومت کے سمارٹ لاک ڈائون کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے، یقینی طور پر اس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور محنت کش طبقہ جو دکانوں اور بازاروں میں کام کرتا ہے ان کو روزگار ملے گا اور ان کے گھروں کا چولہا گرم ہونا خوش آئند ہو گا۔ پنجاب حکومت نے عیدالاضحی کے پیش نظر ریلیف دیتے ہوئے یکم جون تک پورے صوبے میں مارکیٹوں’ شاپنگ مالز’ ہوٹلز’ ریسٹورنٹس اور فوڈ آئوٹ لیٹس 8بجے بند کرنے کی پابندی ختم کر دی ہے۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے نئے اوقات کار سے متعلق اہم نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ جس کے بعد تاجروں’ دکانداروں’ ہوٹل مالکان کو 8بجے دکانیں بند کرنے کی پابندی سے استثنیٰ بھی مل گیا ہے اور ان کو رات گئے تک کاروبار کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد تمام مارکیٹوں کے کاروباری اوقات میں یکم جون تک سمارٹ لاک ڈائون ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد تاجروں کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانا ہے۔ جو کہ پنجاب حکومت کا احسن اقدام ہے۔ انتظامیہ کو بھی اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس اہم فیصلے کا مقصد صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں تجارتی پہیہ گھمانا اور خریداروں کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔ اس اضافی وقت سے کاروبار میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا اور ترقی کا پہیہ بھی رواں دواں ہو گا۔ پنجاب حکومت کا عیدالاضحی کے پیش نظر کاروبار کیلئے ریلیف’ نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن’ مارکیٹوں’ شاپنگ مالز’ ہوٹلز اور فوڈ آئوٹ لیٹس کو رات گئے تک دکانیں کھولنے کی اجازت فیصلے کا مقصد تجارتی پہیہ گھمانا’ خریداروں کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے، انتظامیہ کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کی بحالی جاری کر دی گئیں، پنجاب حکومت یکم جون تک کاروباری اوقات میں نرمی کر دی، کاروباری اوقات کی رات 8 بجے تک پابندی بھی اس کے ساتھ ختم کر دی گئی، فیصلے کا اطلاق صوبہ بھر کی تمام مارکیٹوں’ شاپنگ مالز’ ہوٹلز’ کھانے پینے کی دکانوں اور ریسٹورنٹس پر ہو گا۔ آج سے مارکیٹوں کی 8 بجے تک بندش کی پابندی نہیں ہو گی۔ تاجروں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، مارکیٹوں کے اوقات کار میں نرمی سے شہریوں کے لیے خریداری میں آسانی ہو گی۔ اگرچہ اس پابندی سے تاجروں نے سکھ کا سانس تو لیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پابندی صرف اور صرف عیدالاضحی کے دنوں کیلئے اقدام کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے تاجر بھی عام دنوں میں بھی اپنی دکانوں کو وقت سے ذرا پہلے کھول لیا کریں یعنی صبح کے اوقات میں وہ اپنے کاروبار اور دکانیں پر جلدی آ جایا کریں کیونکہ تاجروں نے یہ بھی وطیرہ بنا لیا ہے کہ جب سہ پہر کا وقت قریب ہونے کو ہوتا ہے تو وہ اپنے کاروبار کا آغاز کر دیتے ہیں جس سے توانائی کی بچت ہونے کی بجائے نقصان ہی ہوتا ہے اور یہ دکاندار اپنے کاروبار اور دکانوں کو ذرا جلدی کھول لیں تو ایک تو ان کے کاروبار میں برکت پیدا ہو گی تو دوسری طرف بجلی کی کھپت میں بھی کمی واقع ہو گی۔ پنجاب جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور حکومت کے ریونیو میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے تاجروں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے سمارٹ لاک ڈائون کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے مختلف بازاروں’ لاہور’ میانوالی’ ملتان’ خانیوال’ فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں کاروباری جمود چھاپا ہوا تھا، سمارٹ لاک ڈائون کے ختم ہونے سے تاجروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔ عیدالاضحی کی آمد آمد ہے۔ خریداروں کیلئے خریداری میں بھی مناسب مل جائے گا جس سے تاجروں کی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا۔ سمارٹ لاک ڈائون کے خاتمہ سے بے روزگاری میں بھی نمایاں فرق آئے گا۔ کاروباری سرگرمیاں تاجروں کیلئے ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہو گی۔ پنجاب کے تمام تاجروں نے حکومت پنجاب کے اس اعلیٰ فیصلے پر مریم نواز کا بھی شکریہ ادا کیا ہے تاکہ تاجر کاروباری سرگرمیوں کو احسن انداز سے جاری رکھ سکیں۔




