ساہیوال (بیورو چیف)صوبے کے بڑے شہروں لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گھی کی فی کلو قیمت 500 سے 650 روپے کو، دال چنا، دال مسور اور دال ماش کی قیمتیں 300 سے 450 روپے کلو تک پہنچ گئیں،قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، درآمدی لاگت میں اضافہ بجلی اور پٹرول کی مہنگی قیمتیں اور ذخیرہ اندوزی شامل، قیمتوں کو قابو میں لانا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ چاول اور دیگر روز مرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے، جہاں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی قوت خرید تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کسان اپنی پیداوار مہنگے داموں بیچنے پر مجبور ہیں جس کا بوجھ براہ ر است صارفین پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے وقتی ریلیف پیکچز اور پرائس کنٹرول کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر مارکیٹ میں قیمتوں کو اعتدال پر لانا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔جس کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی لاگت میں اضافہ ،پیٹرول کی مہنگی قیمتیں، اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں جس نے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال کچھ مختلف ضرور ہے مگر وہاں بھی کھانہ بیچ اور زرعی اخراجات بڑھتے شہروں جیسے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں بھی کی فی کلو قیمت 500 سے 650 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ دال چنا، دال مسور اور دال ماش کی قیمتیں 300 سے 450 روپے فی کلو کے درمیان دیکھی جارہی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح چاول، خاص طور پر باستی، 350 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ عام چاول بھی 250 روپے سے کم دستیاب نہیں جس کی وجہ سے عام شہری کے لیے دوست کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔




