اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان اور دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے مشن کے درمیان مجموعی معاشی فریم ورک پر وسیع پیمانے پر اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ وزارتِ خزانہ نے آئندہ بجٹ 2026-27کے لیے حقیقی جی ڈی پی شرحِ نمو 4.1فیصد اور اوسط سی پی آئی بنیاد پر مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی آئندہ بجٹ کے لیے جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی، یعنی 2.9 کھرب روپے پرائمری سرپلس کی شرط عائد کر چکا ہے۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ روز چاروں صوبائی وزرائے خزانہ اور ان کی معاشی ٹیموں کے ساتھ ورچوئل اجلاس کیا اور صوبوں پر زور دیا کہ وہ اضافی ریونیو اقدامات پر توجہ دیں تاکہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں مطلوبہ پرائمری سرپلس حاصل کیا جا سکے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ آئندہ مالی سال کے لیے 4.1 فیصد حقیقی جی ڈی پی گروتھ کی تجویز پر مذاکرات کیے، جبکہ فنڈ نے 3.5 فیصد شرحِ نمو کی پیش گوئی کی تھی۔




