کراچی (بیوروچیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت45سینٹ (0.4فیصد) کم ہو کر 110.83ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 27 سینٹ(0.3فیصد) کمی کے بعد 103.88 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔گزشتہ روز بھی دونوں بینچ مارکس میں تقریبا 1 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق جنگی کارروائی دوبارہ شروع نہیں چاہتے۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق صورتحال غیر یقینی ہے، فوچیومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تازاوا نے کہا کہ سرمایہ کار یہ جاننے کے خواہاں ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، جبکہ امریکی پالیسی میں مسلسل تبدیلی بھی مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ امن معاہدہ ہو بھی جائے، پھر بھی تیل کی فراہمی فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکے گی، جس کے باعث قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ برینٹ آئل کی قیمت مختصر مدت میں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ مارکیٹ میں سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خطرات کو کم سمجھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جو عالمی تیل کی تقریبا پانچویں حصے کی گزرگاہ ہے۔ اس صورتحال کو عالمی توانائی ایجنسی نے دنیا کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران قرار دیا ہے۔




