فیصل آ باد(سٹاف رپورٹر)تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے نقصان اور اس کے تدارک کے سلسلہ میں انٹرنیٹو ریسرچ انشیٹو کے زیر انتظام معمار ڈوپلمنٹ آرگنائزیشن نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی ،تقریب کے مہمان خصوصی سی او میونسپل کارپویشن ڈجکوٹ نعمان امجد ، یوسف عدنان ، فاروق ایوب ، فریاد شروس ، سلمان مسیح،پاسٹر شارون سرور ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی ایک سنگین سماجی اور صحت کا مسئلہ ہے۔ یہ نہ صرف افرادکی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت اور ماحول پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ تمباکو سے متعلق بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے عوام میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں اس بات کا خاص خیال رکھیں۔حکومت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ سخت قوانین، سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ، اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی جیسے اقدامات اس لعنت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہر سال تقریبا 1 لاکھ 60 ہزار سے 1 لاکھ 64 ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں۔




