پاکستان میں پھولوں کی کاشت سے کثیر زرمبادلہ کمانے کے امکانات

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں پھولوں کی کاشت (فلوری کلچر) میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر کثیر زرمبادلہ کمانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ خام پھولوں کو تیل، پرفیوم، عرقِ گل، کاسمیٹکس، گلدستے اور آرائشی اشیا جیسی اعلیٰ قدر کی مصنوعات میں تبدیل کرکے کسان زیادہ منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے انسٹیٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز کے زیر اہتمام ”فلوری کلچر سے خوشحالی تک: ویلیو ایڈیشن اور کاروباری مواقع” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلوری کلچر پر مبنی کاروبار دیہی آبادی کے لیے پھولوں کی برداشت، پراسیسنگ، دستکاری اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سازگار آب و ہوا، زرخیز زمین اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر پھولوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان میں فلوری کلچر کا شعبہ مضبوط معاشی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائریکٹر ہارٹیکلچر پروفیسر ڈاکٹر احمد ستار خاں نے کہا کہ گلاب، چنبیلی، نرگس اور گیندا جیسے پھولوں کی ملکی اور برآمدی سطح پر بھرپور طلب موجود ہے جس کی وجہ سے یہ چھوٹے کسانوں کے لیے منافع بخش متبادل فصلیں بن سکتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم نے کہا کہ پانی کی قلت کا شکار ملک میں فلوری کلچر کی پیداوار میں سرمایہ کاری معاشی اور ماحولیاتی دونوں لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ پروفیسر ڈاکٹر عدنان یونس نے کہا کہ تازہ پھول کم قیمت پر فروخت کرنے اور بعد از برداشت نقصانات برداشت کرنے کے بجائے کسان پراسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی براہِ راست مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے جاری منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر احسن اکرم نے کہا کہ تربیت، کاروباری مواقع اور زرعی بنیادوں پر قائم گھریلو صنعتوں کے فروغ کے ذریعے فلوری کلچر میں ویلیو ایڈیشن پاکستان میں پائیدار دیہی ترقی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں