اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کے قرضے قانونی حد سے تجاوز کر گئے’ آئی ایم ایف نے خطرات سے خبردار کر دیا۔ دستاویزات کیمطابق قرضوں کی موجودہ شرح جی ڈی پی کے 72.8فیصد کے مساوی ہے،اگلے مالی سال بھی قرضے 67فیصد سے زیادہ شرح پر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، قرضوں کی جی ڈی پی کے لحاظ سے قانونی حد 60فیصد مقرر ہے۔رپورٹ کیمطابق سرکاری قرض درمیانی مدت میں قابل انتظام لیکن خطرات اب بھی زیادہ ہیں،قرضوں کی واپسی کا انحصاربیرونی امداد اور اصلاحات پر ہے،بینکنگ سسٹم بہترلیکن سرکاری قرضوں پر زیادہ انحصار خطرہ ہے،چھوٹے مالیاتی بینک کمزورہیں اورانہیں مسائل کاسامنا ہے،معاشی مضبوطی کیلئے ٹیکس کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں۔آئی ایم ایف نے معیشت کومستحکم بنانے کیلئے ٹیکس نظام میں اصلاحات،اخراجات پرکنٹرول اور مالی نقصانات میں کمی پر زور دیا ہے،اس کے علاوہ توانائی کے شعبے اورسرکاری اداروں میں اصلاحات کو بھی ناگزیر قرار دیا۔آئی ایم ایف کے مطابق توانائی شعبے کے گردشی قرض پرقابو پاکربیرونی فنانسنگ کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے، مہنگائی، برآمدات اورزرمبادلہ کے ذخائر پر بیرونی جنگوں اور عالمی حالات کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،جبکہ مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال کے باعث ترسیلات زرمیں کمی کا خطرہ بھی موجود ہے۔دستاویز کیمطابق 2028 تک 64.7 فیصد، 2029 تک قرضوں کی شرح 61.6 فیصد پر لانے کا عزم ہے، 2033 تک 56.8 فیصد، 2034 میں قرضے 55.7 فیصد پر لانے کا وعدہ ہے،حکومت کا 2034 تک قرض بلحاظ جی ڈی پی 55.7 فیصد پر لانے کا ہدف ہے۔




