کراچی (بیوروچیف) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا برینٹ خام تیل کی قیمت 78 سینٹ اضافے کے بعد 105.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 84 سینٹ اضافے کے ساتھ 99.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔اس سے قبل گزشتہ روز دونوں عالمی بینچ مارکس میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ امن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی آئی جس نے عالمی منڈی کو کچھ سہارا فراہم کیا۔دوسری جانب پاکستان نے ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سے تین ماہ تک کے پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے ، ابتدائی مرحلے میں ایک ماہ کے ذخائر بنانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس پر تقریبا ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔وزارتِ پیٹرولیم ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لیے سعودی عرب اور کویت نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ جاپان سمیت کئی ممالک پہلے ہی اس نوعیت کے ذخائر قائم کر چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سرکاری سطح پر پیٹرولیم ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف تقریبا 21 دن کی ضروریات کے برابر کمرشل اسٹاک موجود ہوتا ہے،اسٹریٹجک ذخائر کے قیام سے ہنگامی حالات میں ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے طویل المدتی انرجی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے، جبکہ قطر کے ساتھ طویل المدتی پیٹرولیم درآمدی معاہدے بھی پہلے سے موجود ہیں۔




