بہاولنگر(نامہ نگار) بہاولنگر میں محکمہ فوڈ کی گندم خریداری مہم مبینہ طور پر سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے دعوئوں نے نہ صرف کسانوں اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ سرکاری نظام کی شفافیت پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ فوڈ کے بعض افسران پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ گندم خریداری اور لوڈنگ کے عمل میں میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ مبینہ طور پر مالی مفادات کے عوض بعض افراد کو خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں جبکہ دیگر متعلقہ فریقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسٹاک مافیا کے خلاف موثر کارروائی کے بجائے صرف رسمی اور محدود لوڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ بڑی مقدار میں گندم اب بھی مختلف گوداموں میں موجود ہے،ضلعی افسران نے حکومتی پالیسی کو پس پردہ ڈالتے ہوئے اپنے مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے، متاثر ہو رہی ہے،سرکاری پالیسی کے تحت بغیر لائسنس ذخیرہ شدہ گندم کی خریداری مخصوص نرخوں پر ہونی چاہیے، تاہم مبینہ طور پر بعض کیسز میں مختلف نرخوں پر ادائیگیوں اور بلوں کی منظوری کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب بعض فوڈ گرین لائسنس ہولڈرز کا موقف ہے کہ ان پر زبردستی لوڈنگ کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔کسانوں، تاجروں اور کاروباری نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم خریداری، اسٹاک چیکنگ اور لوڈنگ کے پورے عمل کا غیر جانبدارانہ فرانزک آڈٹ کروایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہری و تجارتی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ کسانوں، تاجروں اور قومی خزانے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس حوالے سے محکمہ فوڈ کے متعلقہ حکام سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا موقف موصول نہیں ہو سکا۔




