پاکستان فٹبال فیڈریشن کو عالمی ادارہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائیگا

اسلام آباد (بیوروچیف)فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے آئین کو عالمی ادارہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے اس میں ترمیم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی ایف ایف کے امور میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کیزیر اہتمام منعقدہ گورننس اور آئین ترمیم ورکشاپ کے پہلے روز فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر اور اے ایف سی کے ڈیویلپمنٹ آفیسر سونم جگمی نے پی ایف ایف کانگریس کے اراکین سے خطاب کیا اور واضح کیا کہ فیڈریشن کے کاموں میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اعلامیہ کے مطابق پی ایف ایف کا آئین آخری بار 2014 میں ترتیب دیا گیا تھاجبکہ گزشتہ سال فیفا کی تعینات کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے تحت منعقد ہونے والی الیکٹیو کانگریس سے قبل چند شقوں میں ترمیم کی گئی تھی۔پی ایف ایف کانگریس کے اراکین کو اچھی گورننس کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا گیا۔ فیفا اور اے ایف سی حکام نے قانون ساز، انتظامی اور عدالتی اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی پر خاص توجہ دلائی۔ رولف ٹینر نے کہا کہ 2014 کے پی ایف ایف آئین میں ترمیم انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ فیفا اور اے ایف سی کی طرف سے پی ایف ایف میں طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔فیفا اور اے ایف سی نے انتخابات کے ایک سال بعد پی ایف ایف آئین میں ترمیم کی ہدایت دی تھی اور یہ ورکشاپ اس بات کو یقینی بنانے کی طرف ایک قدم ہے کہ یہ کام جلد از جلد مکمل ہو۔پی ایف ایف صدر سید محسن گیلانی نے کہا کہ گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں،آئین میں ترمیم ایک دہائی سے التوا کا شکار ہے جبکہ دیگر فیڈریشنیں کہیں آگے نکل چکی ہیں، اس لیے ہمیں یہ کام ابھی کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں