معاصر معاشرے میں جرم اب محض قانون کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سماجی اور نفسیاتی رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے جو افراد کی شناخت، معاشرتی تصورات اور طاقت کے توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ آج کا سب سے بڑا چیلنج صرف جرائم کا ارتکاب نہیں بلکہ وہ ماحول ہے جس میں جرائم پیشہ عناصر کو عزت، اثر و رسوخ اور سماجی حیثیت حاصل ہونے لگی ہے۔یہ خطرناک رجحان معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ جب تشدد، دھمکی، منشیات فروشی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو قابلِ مذمت سمجھنے کے بجائے قابلِ تقلید سمجھا جانے لگے تو قانون اور غیر قانونی طاقت کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔بہت سے معاشروں میں ایسی سماجی روایات بھی دیکھنے میں آتی ہیں جو بظاہر ثقافتی معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت طاقت کے بگڑے ہوئے تصورات کو فروغ دیتی ہیں۔ اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ، پرتعیش محفلیں، جرائم پیشہ عناصر کی تعریف و توصیف اور دھونس و دھمکی کے ذریعے سماجی حیثیت قائم کرنے کے رجحانات ایک خطرناک سماجی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ رویے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ عزت تعلیم، خدمت اور قانون کی پاسداری سے نہیں بلکہ خوف اور طاقت کے مظاہرے سے حاصل ہوتی ہے۔اس کے نتائج انتہائی دور رس ہیں۔ جرم محض قابلِ سزا عمل نہیں رہتا بلکہ شناخت اور پہچان کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ نوجوان طبقہ ایسے ماحول میں جرم کو ترقی، اثر و رسوخ اور سماجی کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے جو معاشرتی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔جرم شناسی کے مختلف نظریات اس صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔ ایڈون سدرلینڈ کا نظریہ تفاضلی تعلق (Differential Association Theory) بتاتا ہے کہ مجرمانہ رویہ سماجی میل جول سے سیکھا جاتا ہے۔ جب معاشرہ جرائم پیشہ افراد کو پذیرائی دیتا ہے تو ایسے رویے عام اور منتقل ہونے لگتے ہیں۔اسی طرح البرٹ بینڈورا کا نظریہ سماجی سیکھ (Social Learning Theory)اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ افراد ان رویوں کی نقل کرتے ہیں جنہیں وہ کامیاب یا قابلِ تعریف سمجھتے ہیں۔ جب مجرموں کو سماجی حیثیت یا سیاسی سرپرستی حاصل ہو تو وہ کمزور طبقات کے لیے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔رابرٹ مرٹن کا نظریہ دبا (Strain Theory)اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جب افراد جائز ذرائع سے سماجی اہداف حاصل نہ کر سکیں تو وہ غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں جرائم پیشہ عناصر دولت اور اثر و رسوخ سے لطف اندوز ہوں، وہاں جائز اور ناجائز کامیابی کے درمیان فرق مزید مبہم ہو جاتا ہے، جس سے جرم ایک پرکشش متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے ۔اسی طرح ( Broken Windows Theory) کے مطابق اگر معاشرے میں چھوٹے جرائم اور بدامنی کو نظر انداز کیا جائے تو بڑے جرائم کو فروغ ملتا ہے۔ اسلحے کی کھلی نمائش، عوامی مقامات پر دھونس اور غیر قانونی طاقت کے مظاہرے معاشرتی نظم و ضبط کے زوال کی علامت ہیں۔جب جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا تاثر پیدا ہو تو مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اس سے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں۔اس تناظر میں موثر پولیسنگ ناگزیر ہے۔ جدید پولیسنگ محض گرفتاریوں کا نام نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام، خوف میں کمی اور عوامی اعتماد کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔اس حوالے سے ریجن فیصل آباد میں ریجنل پولیس آفیسر سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں ایک جامع اور عملی پولیسنگ ماڈل قابلِ ذکر ہے۔ اس ماڈل میں کمیونٹی پولیسنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے ذریعے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کے خلا کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔علما کرام، اساتذہ، تاجروں، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل روابط، کھلی کچہریوں کا انعقاد اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے اقدامات نے عوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز میں آگاہی سیمینارز کے ذریعے شہری شعور کو فروغ دیا گیا ہے۔اسی طرح پولیس اہلکاروں، شہدا کے اہل خانہ اور دورانِ ملازمت وفات پانے والے اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جو ایک مضبوط ادارے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مختلف اداروں، ہسپتالوں اور تعلیمی مراکز کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں نے ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔آپریشنل سطح پر منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں، اشتہاری مجرموں کی گرفتاری، منظم جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ اور موثر گشت کے نظام نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔ دیرینہ دشمنیوں اور تنازعات کے حل سے بھی تشدد کے امکانات میں کمی آئی ہے۔یہ ماڈل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ موثر پولیسنگ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ادارہ جاتی عمل ہے، جس میں ہر سطح پر رابطہ، احتساب اور تعاون ضروری ہے۔تاہم جرائم کی سماجی مقبولیت کو ختم کرنا صرف پولیس کا کام نہیں۔ حکومتوں کو ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو جرائم کی تعریف و توصیف کو روکتی ہوں۔ تعلیمی اداروں کو اخلاقی تربیت اور شہری شعور کو فروغ دینا ہوگا جبکہ میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشرہ خود جرم کو قابلِ قبول نہ سمجھے۔ جب تک عوامی سطح پر جرائم کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی، پائیدار امن ممکن نہیں۔ایک صحت مند معاشر ے کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس میں کتنے مجرم گرفتار ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں جرم کو کتنا قابلِ نفرت اور ناقابلِ قبول بنایا گیا ہے۔ڈاکٹر محمد رضوان بھٹی پنجاب پولیس میں انسپکٹر ہیں۔ آپ نے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور دہشت گردی، انسداد دہشت گردی، کائونٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم ، گورننس اور پولیسنگ کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ سے رابطہ درج ذیل ای میل پر کیا جا سکتا ہے:rizwanbh79@gmail.com




