ذہنی صحت اور غذا کا تعلق

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی صحت کا تعلق صرف دماغ اور جذبات سے ہے۔ مگر جدید نیوروسائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں، وہ براہِ راست ہمارے موڈ، یادداشت، نیند اور سوچنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس تعلق کو سائنس میں ”گٹ-برین ایکس” کہا جاتا ہے۔
1۔ گٹ۔ برین کنیکشن کیا ہے؟
انسان کا نظامِ ہاضمہ 100ٹریلین بیکٹیریا کا گھر ہے، جسے گٹ مائیکروبیوم کہتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا صرف کھانا ہضم نہیں کرتے، بلکہ90 فیصد”سیروٹونن”جیسا نیوروٹرانسمیٹر بھی بناتے ہیں۔ سیروٹونن وہ کیمیکل ہے جو خوشی اور سکون کا احساس دیتا ہے۔جب گٹ صحت مند ہوتا ہے تو دماغ بھی پرسکون رہتا ہے۔ جب گٹ میں خرابی ہوتی ہے تو اضطراب، ڈپریشن اور دماغی دھند عام ہو جاتی ہے۔
2۔ وہ غذائیں جو ذہنی صحت کو بہتر کرتی ہیں
اومیگا 3سے بھرپور غذائیں
مچھلی، اخروٹ، السی کے بیج دماغی سوزش کم کرتے ہیں اور ڈپریشن کے خطرے کو گھٹاتے ہیں۔
پروبائیوٹک غذائیں
دہی، لسی، گھر کا اچار گٹ کے اچھے بیکٹیریا بڑھاتے ہیں۔ ایک صحت مند گٹ کا مطلب ہے بہتر موڈ اور کم بے چینی۔
میگنیشیم سے بھرپور غذائیں
بادام، پالک، کدو کے بیج اعصابی نظام کو پرسکون کرتے ہیں اور نیند بہتر بناتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور رنگین پھل و سبزیاں
بیریز، چقندر، گاجر، شملہ مرچ دماغی خلیات کو آکسیڈیٹیو اسٹریس سے بچاتی ہیں، جسکا تعلق الزائمر اور یادداشت کی کمزوری سے ہے۔
کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس
چوکر والا آٹا، دلیہ، دالیں آہستہ آہستہ توانائی دیتی ہیں اور بلڈ شوگر کے اتار چڑھا کو روکتی ہیں، جس سے موڈ مستحکم رہتا ہے۔
3۔ وہ غذائیں جو ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں
ریفائنڈ چینی اور کولڈ ڈرنکس: وقتی طور پر انرجی دیتی ہیں، مگر بعد میں تھکن اور چڑچڑاپن لاتی ہیں۔
الٹرا پراسیسڈ فوڈ: چپس، فاسٹ فوڈ، پیکڈ اسنیکس میں ٹرانس فیٹ اور کیمیکل ہوتے ہیں جو سوزش بڑھاتے ہیں۔
زیادہ کیفین: 2کپ سے زیادہ چائے/کافی اضطرا ب اور نیند کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔
الکحل: ڈپریشن کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
4۔ عملی عادات جو فرق پیدا کرتی ہیں
1۔ صبح کا ناشتہ نہ چھوڑیں: خالی پیٹ رہنے سے کورٹیسول بڑھتا ہے اور بے چینی ہوتی ہے۔
2۔ روزانہ ایک فرمینٹڈ غذا شامل کریں: ایک کپ دہی یا لسی گٹ کو مستحکم رکھتی ہے۔
3۔ پانی کا خیال رکھیں: ہلکی ڈی ہائیڈریشن بھی تھکن اور چڑچڑاپن پیدا کرتی ہے۔
4۔ کھانے کے وقت موبائل بند رکھیں: مائنڈفل ایٹنگ ہاضمہ اور ذہنی سکون دونوں بہتر کرتی ہے۔
نتیجہ: دماغ اور پیٹ الگ نہیں، وہ ایک ہی نظام کے دو حصے ہیں۔ اگر آپ اپنے موڈ، نیند اور ارتکاز کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو دوا سے پہلے اپنی پلیٹ پر نظر ڈالیں۔ یاد رکھیں: صحت مند گٹ، پرسکون ذہن۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں