دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی

پاکستان جیسے گرم اور دھوپ والے ملک میں رہتے ہوئے اگر کسی شخص کو وٹامن ڈی کی کمی ہو جائے تو یہ بات حیران کن محسوس ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف دھوپ میں نکلنے سے جسم کو وافر مقدار میں وٹامن ڈی مل جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج پاکستان میں لاکھوں افراد، خصوصا خواتین، بچے اور بزرگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، حالانکہ انہیں روزانہ دھوپ میسر ہوتی ہے۔
وٹامن ڈی کو سن شائن وٹامن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سورج کی روشنی سے جسم میں بنتا ہے ۔ یہ وٹامن ہڈیوں، دانتوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ ذہنی دبائو اور مختلف بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی کیوں ہوتی ہے؟
1۔ جلد کی گہری رنگت: جنوبی ایشیائی افراد کی جلد میں میلانین زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو جلد کو گہرا رنگ دیتا ہے۔ یہی مادہ سورج کی شعاعوں کو جذب ہونے سے روکتا ہے، جس کے باعث جسم میں وٹامن ڈی بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔
2۔ مکمل لباس اور پردہ: ہمارے معاشرے میں مکمل لباس پہننے کا رواج عام ہے۔ خواتین اکثر عبایا، دوپٹہ یا مکمل ڈھانپنے والا لباس استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے سورج کی شعاعیں براہِ راست جلد تک نہیں پہنچ پاتیں۔ نتیجتاً جسم وٹامن ڈی نہیں بنا پاتا۔
3۔ شیشے کے پیچھے دھوپ لینا: بہت سے لوگ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر یا گاڑی میں سفر کے دوران دھوپ لینے کو کافی سمجھتے ہیں، لیکن عام شیشہ UVB شعاعوں کو روک دیتا ہے۔ یہی شعاعیں وٹامن ڈی بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
4۔ سن اسکرین کا زیادہ استعمال: سن اسکرین جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے بچاتی ہے، لیکن اس کا مسلسل استعمال وٹامن ڈی بننے کے عمل کو بھی متاثر کرتا ہے۔ زیادہ SPF والی سن اسکرین وٹامن ڈی کی پیداوار کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
5۔ فضائی آلودگی: بڑے شہروں میں دھواں، گرد و غبار اور فضائی آلودگی سورج کی فائدہ مند شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری آبادی میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کی علامات: وٹامن ڈی کی کمی ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر وقت کیساتھ یہ کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے، جیسے: ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری’ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد’ پٹھوں میں کھچائو’ بالوں کا گرنا’ زخموں کا دیر سے بھرنا’ بار بار بیمار ہونا’ ذہنی دبائو اور اداسی۔
وٹامن ڈی کی کمی سے بچائو کیسے ممکن ہے؟
براہِ راست دھوپ لینا: ہفتے میں کم از کم تین بار 15 سے 20 منٹ تک ایسی دھوپ لینی چاہیے جو براہِ راست بازوں، ہاتھوں یا ٹانگوں پر پڑے۔ اس کے لیے صبح 10بجے سے دوپہر 3بجے کے درمیان کا وقت زیادہ موثر سمجھا جاتا ہے۔
متوازن غذا: خوراک میں وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں شامل کرنا ضروری ہے، جیسے: انڈے کی زردی’ مچھلی (سالمون، ٹونا)’ کلیجی’ فورٹی فائیڈ دودھ اور دہی’ مکھن اور پنیر۔
سپلیمنٹس کا استعمال: اگر جسم میں وٹامن ڈی کی شدید کمی ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خود سے زیادہ مقدار لینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: وٹامن ڈی کی کمی ایک عام مگر نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔ صرف دھوپ کی موجودگی کافی نہیں بلکہ دھوپ لینے کا درست طریقہ، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہیں۔ اگر مسلسل کمزوری، ہڈیوں میں درد یا تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر”25-Hydroxy Vitamin D” ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں