چین کا ایک اور حیران کن منصوبہ

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے سب سے بڑے کوئلہ پیدا کرنے والے خطے اندرونی منگولیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ کوئلے کو تیل، گیس اور کیمیکل مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں نمایاں توسیع کرے گا، تاکہ ملک کی توانائی کی خود کفالت کو بڑھایا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ چین کی توانائی سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بیرونی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر توانائی کی صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔اندرونی منگولیا کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہوانگ ژی چیانگ کے مطابق خطہ اپنی وسیع کوئلہ پیداوار کو استعمال کرتے ہوئے کوئلے سے تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار بڑھا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کوئلے سے حاصل شدہ گیس اور کیمیکلز چین کی درآمدی تیل و گیس کا صرف 6 فیصد متبادل بن سکے، تاہم پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ عمل کاربن اخراج میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے چین کے ماحولیاتی اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اس وقت اندرونی منگولیا کی توانائی کا 53 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع پر مشتمل ہے۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ چین کی صنعتی حکمت عملی اور ماحولیاتی دبا کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کی عکاسی کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں