وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پنجاب کو ماحول دوست صوبہ بنانے کے وژن کے تحت ایک انقلابی پیش رفت ہے پاکستان کا پہلا ای بی اے تصدیق شدہ ”لیکوئڈ ٹری” فیصل آباد سے لاہور پہنچ رہا ہے۔ 1987ء سے اب تک ای پی اے پنجاب کی جانب سے تصدیق پانے والی یہ پہلی ٹیکنالوجی ہے جو مصنوعی درخت کی صورت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرے گی۔ کراچی سے خیبر تک 100 سے زائد اقسام کی مائیکروالگی اکٹھی کی گئیں، 7ماہ کے عرصہ میں ہر قسم کی کاربن سیکولیٹریشن کی صلاحیت اور افادیت ٹیسٹ کی گئی۔ سب سے مؤثر ایل جی سکھر’ سندھ سے ملی۔ اس کے بیج لے کر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے تعاون سے وہیں کاشت کیے گئے۔ سسٹم میں اے آئی بیسڈ کیلکولیٹر لگا ہے جو بتاتا ہے کہ ایک وقت میں کتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہو رہا ہے اور کتنی آکسیجن ریلیز ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے آلودگی کے خاتمے کیلئے ”بائیو مصنوعی درخت” کی تیاری پر ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) محققین اور تمام ٹیم کی اس کاوش کو خوب سراہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیلکولیٹری کا آزمائشی مرحلہ صوبہ پنجاب کے محققین’ بائیو سائنٹسٹ اور ای پی اے کی تخلیقی صلاحیت’ مہارت اور جذبے کا ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مصنوعی درخت منصوبے میں اہم کامیابی’ جدید سائنسی تحقیق سے تیارکردہ ”لیکوئڈٹری” کے کامیاب تجربے کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکوئڈٹری کا کامیاب تجربہ صوبہ پنجاب میں ماحولیاتی بہتری کی جنگ میں بڑی تبدیلی لائے گا۔ پہلے مرحلے میں ”لیکوڈٹریز” کو بڑے مالز انڈور اور آئوٹ ڈور دونوں جگہوں پر لگایا جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی شہری علاقوں میں آلودگی کم کرنے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی۔ ”لیکوئڈٹری” پانی میں ایل جی پیدا کر کے ”بائیو ری ایکٹر” کے ذریعے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ صاف کرنے کا جدید سائنسی طریقہ ہے۔ اس طریقے سے شہروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سموگ کے خاتمے کا جدید ترین سائنسی طریقہ کار ہے۔ بڑے پلازوں’ کمرشل ایریاز میں مصنوعی درخت اصلی درختوں کی طرح ماحول بہتر بنائیں گے۔ شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کی وجہ سے شہریوں کو بے شمار بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ”لیکوئڈٹریز” سے فضائی آلودگی اور خصوصاً صنعتی علاقوں میں فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں انڈسٹریز کا زہریلا دھواں ماحول کو آلودہ کرنے کا باعث بن رہا تھا اسی منصوبے سے زہریلا دھواں پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انٹرنیشنل بلڈ ڈونر پر اپنے پیغام میں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں سے بلڈ ڈونیشن کے کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی بھی اپیل کی ہے۔ خون کا عطیہ کرنے والے نیک عمل سے وابستہ ہر فرد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ رضا کارانہ طور پر بلڈ ڈونیشن کرنے والے کسی ایک فرد یا خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے محسن ہیں۔ سیف سٹی ویب سائٹ یا قریبی پولیس خدمت مرکز پر بھی بطور ڈونر رجسٹریشن کرائی جا سکے گی۔ پنجاب کو پاکستان کا پہلا باقاعدہ ورچوئل بلڈ بنک قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے 4 کا بٹن دبانے پر ورچوئل بلڈبنک سے رابطہ ممکن ہے۔ ورچوئل بلڈبنک کے ذریعے ضرورت مند مریض کا رابطہ ڈونر سے ممکن ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق خون کی فراہمی صحت کے مضبوط نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب میں نجی اداروں نے محض عوام سے پیسہ بٹورنے کی خاطر بلڈ بنک بنا رکھے ہیں جو لوگوں سے بھاری رقمیں لے کر خون دیتی ہیں پنجاب میں بلڈبنک کے منصوبہ سے ان لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی جنہوں نے بلڈبنک کے ادارے بنا رکھے ہیں۔ ضرورت مند مریضوں کو جن کو خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ان سے بھاری رقم لے کر خون سیل کر دیتے ہیں۔ ان ہی ادارے سے خون دینے والے افراد میں کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور کسی بھی قسم کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب میں ورچوئل بلڈبنک کے قیام سے مریضوں اور مستحق افراد کو تازہ خون کی فراہمی میں آسانی میسر ہو گی۔ ملک میں تھیلا سیمیا اور ہیموفیلیا کے مریضوں کی تعداد بھی کئی گنا ہے جن میں اکثریت معصوم بچوں کی ہے ان معصوم بچوں کو جو کہ خون کی کمی کے باعث اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ”ورچوئل بلڈبنک” کے قیام سے ان معصوم بچوں کو بروقت خون کی سپلائی ہو جائے گی اور ان کا چراغ زندگی گل سے محفوظ ہو سکتا ہے۔




