لاہور(بیوروچیف) عالمی برادری نے ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کی ہے۔برطانوی وزیرِاعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں جنگ کے خاتمے اور استحکام کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔برطانوی وزیرِاعظم نے امریکا ایران معاہدے کیلئے ثالثی کے عمل میں کردار ادا کرنے والے ممالک پاکستان، قطر اور دیگر کو سراہا۔قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، قطر اس معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور ان تمام علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔تیونس میں ایرانی سفارتخانے نے امریکا اور ایران معاہدے میں پاکستانی کردار کو سراہا اور کہا کہ تاریخ بعض اوقات دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ایرانی سفارتخانے کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے امریکی صدر کو ایک اور اسلامی جمہوریہ ملک پاکستان سے رجوع کرنا پڑا، اس صورتحال کو ایک تاریخی ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔ترک صدر نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایسے بیانات، اشتعال انگیزیوں اور اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں، تمام متعلقہ فریقوں کو ممکنہ تخریب کاری یا امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف بھی ہوشیار اور محتاط رہنا چاہئے۔جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے اس معاہدے کو بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مفاہمتی یادداشت پر مستقل اور مثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے گا۔نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کی امید ظاہر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی بحالی کو اہم قرار دیا اور تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھیں، اگرچہ صورتحال اب بھی نازک ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ایران امریکا معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ پائیدار اور دیرپا امن کا باعث بنے گا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے پرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا، آبنائے ہرمز کی بحالی توانائی کی قیمتوں اور معیشتوں پر دبا کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔برطانیہ، فرانس، جرمنی اوراٹلی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، واضح اور قابل تصدیق اقدامات پر ایران پرپابندیوں میں نرمی کی جائے گی، آبنائے ہرمز کا فوری اور غیر مشروط کھلنا ضروری ہے، یورپی ممالک نے لبنان کی خود مختاری اور استحکام کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک کو معاہدے پر پہنچنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے۔




