عقل کے استعمال کی اہمیت کے بارے میں کتابیں بھری پڑی ہیں اور ان کتابوں میں سے ساری تو نہیں البتہ کچھ تھوڑی بہت میں نے بھی پڑھی ہیں اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو سیانے کہتے ہیں کہ زندگی بہت بڑی کتاب ہے اس کا خوب مطالعہ کریں اور میں نے زندگی کے انسٹھ سال گزار دیئے ہیں اور یقینا ان گذشتہ سالوں میں زندگی کی کتاب کو خوب پڑھا ہوگا، زندگی کی کتاب کے ہر ورقے پر عقل کے استعمال پر زور دیا گیا ہوگا اور میں نے زندگی کی کتاب سے اس اہم بات کو سیکھا ہوگا۔ اس کے علاوہ زندگی بیرون اور اندرون کی کہانی ہے اور علمائے کرام کہتے ہیں کہ دین ہر دو مذکورہ حالتوں کو متاثر کرتا ہے اور دین اسلام کی تعلیمات قرآن مجید کی شکل میں محفوظ ہیں۔ قرآن مجید بارہا عقل کو استعمال کرنے کا درس دیتا ہے بلکہ بعض اوقات تو انسان کو جھنجھوڑتا ہے اور کہتا ہے کہ انسان جلد باز ہے، انسان خسارے میں ہے اور انسان نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ بادی النظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو عقل کی شکل میں بہت بڑا انعام دے دیا گیا ہے اور انسان دنیا میں رہتے ہوئے اس کا استعمال کرنے میں یا تو بھول جاتا ہے یا پھر افراط وتفریط کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنگ وجدل کرنے میں نہ آو دیکھتا ہے ناں تاو دیکھتا ہے آگ گولوں، میزائلوں اور بموں کا بے دریغ استعمال کردیتا ہے۔ اس طرح انسان جلد باز نے کتنا بڑا ظلم کردیا ہے بستیوں کی بستیاں ویران ہو گئیں، چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے اور ضعیف والدین کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ سمندروں میں جہازوں کی نقل وحرکت یا تو روک دی گئی یا پھر محدود کردی گئی اور مارکیٹ کا سارا دارومدار رسد اور آمد پر ہے لہذا چیزوں کی کمی اور کم آمدن والے گھروں کے سربراہ کس کی ماں کو ماسی کہیں گے۔ سالانہ بجٹ بنانے میں پھر وقت تو لگے گا اور بجٹ اجلاس بار بار موخر کرنا پڑیں گے۔ امرا کو محفوظ بنانے کے لئے غربا کے پے پیکج اور ملازمتوں پر آنے والے اخراجات پر کٹ تو لگے گا یوں دنیا میں ایک نیا تماشہ لگے گا کلاس سسٹم مضبوط ہوگا۔ امیر مزید امیر ہوگا اور غریب غریب ترین ہوجائے گا۔ وسائل چند ہاتھوں میں سکڑ کررہے جائیں گے اور ہر الیکشن میں پرانے اور نئے نئے نعروں کو دہرا کر قوم کو “جگانے” کی کوشش کی جائیگی اور مزے کی بات ہے ساری قوم ان نعروں کا ذوق شوق سے جواب دے گی اور ایک تابناک مستقبل کا خواب دیکھے گی۔ شاید خواب دیکھنے کے دوران عقل محو استراحت ہوتی ہے۔ ویسے بھی شعبہ طب کے لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کے کچھ دیر بعد سو جانا چاہیئے ان کا خیال ہے کہ ساونڈ سلیپ کی صورت میں معدہ خوب کام کرتا ہے اور یوں کھایا پیا سب ہضم ہوجاتا ہے۔ اب مسئلہ ان کا ہے جن لوگوں کے پاس شام کے وقت کھانے پینے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ان کو باتوں میں لگانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ تو سو نہیں سکیں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ وہ عقل کا استعمال کرنا شروع کردیں اور عقل کے استعمال کے نتیجے میں سوچ بچار اور سوچ بچار کی وجہ سے ہی دو اور دو چار ہوتے ہیںکہتے ہیں کہ اعادہ کرنے سے چیزیں از بر ہوجاتی ہیں، سوچ پختہ ہوجاتی اور معاملات میں بہتری آجاتی ہے۔ تاہم عقل کے معاملے میں صورتحال کچھ یوں ہے کہ بچپن سے ہی کچھ فقرے سن سن کر ہم بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر”عقل کر”، ”عقل سے کام لیں”، ”آپ کو عقل نہیں ہے”، ”عقل کے ناخن لیں”،”ایسی عقل پر تف”، ”بے عقل کہیں کا”، ”تیری عقل ماری گئی ہے”، ”عقل نئیں تے موجاں ای موجاں” اور اس طرح کے بے شمار فقرات زبان زد خواص ہوتے ہیں کاش یہ زبان زد خاص وعام ہوجاتے لیکن عام کی کیا مجال کہ وہ بھی ان فقرات کا استعمال کرسکے۔ تاہم وہ اپنے اپنے لیول پر بڑے چھوٹے میں فرق کرکے ہم سب یہ باتیں کہتے رہتے ہیں اور سننے والے سنتے رہتے ہیں بلکہ سننے والے ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں البتہ ایک فقرے کی طرف مقابلتاً زیادہ توجہ دی جاتی ہے عقل نئیں تے موجاں ای موجاں شاید یہ فقرہ ہماری ماں بولی پنجابی میں ہے اور ماں بولی میں بات کی جائے تو سننے والا پوری توجہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ فقرے میں موجاں ای موجاں کا تصور ہے اور عقل کا استعمال اتنا آسان کام بھی نہیں ہے اور ہم موج میلہ کرنے والے لوگ ہیں افسوس میلے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ویسے ختم کردیئے ہیں اور موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔ ہمارے تو دریا بھی افراط وتفریط کا شکار ہوگئے ہیں یا تو اتنے سوکھ جاتے ہیں کہ ان پر دریا کا گمان تک نہیں ہوتا اور قبضہ مافیا ان پر بھی قبضے کرنا شروع کردیتا ہے یا پھر اتنا بپھر جاتے ہیں کہ ارد گرد کی ساری بستیاں زیر آب آجاتی ہیں اور اداروں کو خوب متحرک ہونا پڑتا ہے۔ فطرت کے بھی انتقام کا ایک طریقہ ہے اور فطرت انسان کو سبق سکھاتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دریا بھی اپنا رقبہ واگزار کروانے کے لئے جوش میں آجاتا ہے اور ارد گرد کی ساری بستیاں خالی کروا لیتا ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے اور سوچنے کے لئے عقل کا استعمال اور ہم نے یہ کام کرنا چھوڑ دیا ہے کیوں چھوڑا ہے یہ بھی بحث پرانی ہے۔ بحثوں نے ہی توہمارا کچومر نکالا ہے۔ ہمارے ہاں اگر بحث و تمحیص کے بارے میں تاریخ کی کتاب مرتب کی گئی تو تاریخ کو انسان سے اور انسان کو تاریخ سے منہ چھپانا پڑے گا بلکہ انسان تو خصوصی طور پر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا کیونکہ بحث کے نتیجے میں استخراج ہوتا ہے اور اشرف المخلوقات نے ہر بحث کے نتیجے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ہمارے ہاں تو انسان نے اتنے بچوں کو جنم دے دیا ہے کہ اب بچے بھی ان گنت بحثوں میں الجھ پڑے ہیں اور مزید الجھتے جارہے ہیں اور ہم اپنے آپ کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ کاش اب بھی ہم عقل کا استعمال کرلیتے تو ہمیں پالیسی میکنگ میں آسانی ہوجاتی۔ شاید یہ اس لئے ممکن نہیں ہے کہ ہمارے ہاں پالیسی سازی میں ہم کا لفظ بھی محدود پیرائے میں استعمال ہوتا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور پھر ہم اور تم کے فاصلے جبکہ ہم اور تم کو ایک ہونا ہے کس طرح ہونا ہے اس بات کی پوری طرح تو سمجھ مدبرین اور مفکرین کو بھی نہیں لگی ہے اور وہ بھی اشارے کنائے سے کام چلاتے رہے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں کام چل رہا ہے بہتری کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ غالبا فطرت کے اپنے تقاضے ہیں اور فطری طور پر تو سب انسان ایک جیسے پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کے بعد کی ساری کہانی عقل کے استعمال کے گرد گھومتی ہے اور جس کو یہ بات سمجھ آجاتی ہے وہ یا تو چپ کرکے اپنی تقدیر بنانے کے پیچھے پڑجاتا ہے یا پھر اپنی تقدیر بنانے کے لئے دوسروں کے پیچھے پڑجاتا ہے۔ یوں ہم سب ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے عقل کا استعمال کررہا ہے اور حساب کتاب کے گوشوارے ہم اور تم کے فاصلوں کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ آو فاصلے کم کرنے کے لئے عقل کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔




