پنجاب کا بجٹ اور عوامی توقعات (اداریہ)

صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع نے 5903 ارب 46 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا، تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ شعبہ تعلیم کیلئے 750 ارب روپے جبکہ صحت کے شعبے کیلئے 500 ارب 62کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی بجٹ کی تجاویز کے تحت سکول انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کیلئے 7ارب 65کروڑ روپے’ سکولوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے 5 ارب روپے’ وزیراعلیٰ پنجاب سکول میں پروگرام کیلئے 4ارب روپے’ سسٹم ٹرانسفارمیشن گرانٹ کیلئے 3ارب 15کروڑ 50لاکھ روپے’ ملٹی پریز سسٹم لیبارٹریز کے قیام کیلئے 1ارب 28کروڑ 40لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ریسکیو ایمرجنسی کے لیے نئے منصوبے شروع کرنے کی تجویز ہے۔ 39تحصیلوں میں فائر سروس کے قیام کیلئے 30کروڑ روپے’ نئے ریسکیو سٹیشنز کے قیام کیلئے 24کروڑ 40لاکھ روپے’ ریسکیوBMT انٹرن شپ پروگرام کیلئے 7کروڑ 40لاکھ روپے’ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کیلئے 4کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ فرنٹیئر ٹیک سکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کیلئے 12ارب 30کروڑ روپے اور ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک سکلز پروگرام کے لیے 19ارب 70کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کے لیے ترقیاتی بجٹ میں پنجاب بھر میں 24/7 مراکز صحت کی بحالی واپ گریڈیشن کیلئے 54 ارب 46کروڑ روپے’ غیر فعال 24/7 مراکز صحت کی بحالی کیلئے 49ارب 37کروڑ روپے BHUS اور RHCS میں آلات کی فراہمی (فیزII) کیلئے 31 ارب روپے ترجیحی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن اور آلات کی فراہمی کیلئے 30 ارب 51کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پنجاب پولیس کیلئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 252 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے سمارٹ سیف سٹیز سی ایم تحصیل’ سمارٹ سیف سٹیز ڈیٹا سینٹرز کے پی پی آئی سی پراجیکٹ کو وسعت دینے کیلئے 47.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ شفاف پولیسنگ کے فروغ کے لیے تمام تھانوں’ پولیس چوکیوں اور پی ایچ پی میں پینک بٹن’ باڈی کیمرے اور ڈیجیٹل ایویڈنس ریکارڈنگ کے لیے سسٹم بھی نصب کئے جائیں گے۔ ٹریفک پولیس پنجاب کو 6ہزار باڈی کیمرے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں فنکاروں کی مالی امداد میں 100 فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ 50ایکڑ اراضی پر 56 ارب روپے کی لاگت سے جدید سہولیات سے آراستہ عظیم الشان فلم سٹی تعمیر کیا جائے گا۔ صوبائی محصولات کا ہدف 209 ارب 86کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو 4390 ارب 94کروڑ ملیں گے۔ بیرونی قرضوں کی مد میں 49ارب 84کروڑ روپے وصول ہونگے۔ مالی سال 2026-27ء کو یوتھ قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ کھیلوں اور امور نوجوانان کے شعبے میں 50ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں مریم نواز سپورٹس سٹی بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپ گریڈیشن کے لیے 6ارب 60کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف کھیلوں کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی تجویز تیار کی گئی ہیں۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27ء کو عوام کو گراس روٹ لیول پر خدمات فراہم کرنے کی غرض سے پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کیلئے 5.2فیصد اضافے کے ساتھ 803 ارب 88کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ سروس ڈیلیوری اخراجات 783 ارب 2کروڑ روپے ہو گا۔ جس میں 578 ارب روپے 62کروڑ روپے اداروں کے روزمرہ کے اخراجات کا ہے جو کہ حکومت کے مؤثر اقدامات کے سبب پچھلے مالی سال کی نسبت 5.1 فیصد کم ہے۔ اسی طرح کرنٹ کیپٹل اخراجات کی مد میں 679 ارب 1کروڑ روپے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ صوبائی محصولات کی بات کی جائے تو وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کیلئے 4390 ارب 94کروڑ روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کی نسبت 8.1 فیصد زیادہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے اپنے محصولات میں اگلے مالی سال کیلئے 1209 ارب 86کروڑ روپے کی صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس ضمن میں پنجاب ریونیو اتھارٹی 528 ارب 50کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو کہ مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 55.4 فیصد زائد ہے۔ بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولی کا ہدف 86ارب 19کروڑ روپے مقرر کیا جا رہا ہے، اگلے مالی سال کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو 124 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کی نسبت 77 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے، اسی طرح صوبائی نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17کروڑ لگایا گیا ہے جو کہ 2025-26ء کی نسبت 52 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب حکومت نے 2026-27ء کو یوتھ کا سال قرار دیا ہے اور پنجاب کے نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور جدید فنی وحربی تعلیم سے آگاہی کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو خوش آئند ہے اس سے نوجوان نسل کو نئی سے نئی سکلز سیکھنے کا موقع بھی ملے گا اور ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے بھی یہی سکلز سودمند بھی ثابت ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں