انصاف، انصاف اور انصاف۔ تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ اور تاریخ پر تاریخ۔ انصاف وہ ہے جو ہوتا ہوا دکھائی دے۔ (شفقت فقط نمود ونمائش نہیں ہے عدل۔۔۔ ہے عدل وہ جو ہوتا ہوا بھی دکھائی دے) انصاف پر مبنی معاشرہ ہی آئیڈیل معاشرہ ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ روزحشر سات اشخاص اللہ تعالی کے عرش کے سایے تلے ہوں گے اور ان میں سرفہرست عادل حکمران ہوگا۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انصاف کرنے والا اللہ تعالی کی نظر میں کتنا اہم ہے اور اس منصب پر فائز لوگوں کے کام کی حساسیت اور اہمیت کیا ہے۔ ایک حدیث میں تو یہاں تک تحریر ہے کہ جس کو یہ منصب عطا کیا گیا اس کو گویا کند آلے سے ذبح کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بنوعباس کے دور میں خلیفہ منصور نے اس دور کے جید قانون دانوں کو قاضی القضاة کے عہدے کی پیشکش کی تھی اور سب نے انکار کردیا تھا۔ خیر کسی نے تو یہ کام کرنا ہوتا ہے اور اگر اچھا نظام وضع کردیا جائے تو بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ شاید ہم قانونی موشگافیوں میں الجھ گئے۔ ہم نے اتنی بحثیں چھیڑ دیں کہ بحث در بحث اور پھر نئی نئی بحثوں کا لامتناہی سلسلہ اور انصاف کے حصول کا مقصد ثانوی شکل اختیار کرگیا۔ ویسے تو ہر شخص نے اپنے اپنے لیول پر انصاف کرنا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹو جسٹس کا بھی تصور ہے اور ہمارا نظام عدل۔ ہر چیز ارتقا کے عمل سے گزرتی ہے اور لازم ہے کہ اس میں بہتری آئے کیونکہ دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر نئی نئی ایجادات ہورہی ہیں اور ان ایجادات کی بدولت دنیا کیا سے کیا ہو گئی ہے۔ زیر نظر کالم کا دائرہ ویسے تو بہت پھیلایا جا سکتا ہے لیکن یوں بات ادھر سے ادھر ہوجائیگی اور شاید بات کا بتنگڑ ہی بن جائے۔ ہمارا آج کا موضوع ریونیو کورٹ مینیجمنٹ سسٹم ہے۔ ریونیو کورٹ۔ آج ہی کا نہیں ہمیشہ سے ہی اہم موضوع رہا ہے۔ شاید اس کی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب انسان دنیا میں آیا تو اس نے زمین پر قدم رکھا تھا لہذا انسان اور زمین لازم وملزوم ٹھہرے۔ ازاں بعد دونوں کے بارے میں قوانین بنے۔ ان قوانین کا نفاذ ہوا۔ قانون شکنی کی بیخ کنی کے لئے عدالتیں بنیں اور پھر عدالتوں کی بھی ایک نئی بحث کہ کونسی جوڈیشل ہے اور کونسی نیم جوڈیشل ہے۔ کس نے کونسا کام کرنا ہے اور کس نے کیسے کام کرنا ہے۔ الا ماشا اللہ تاحال بحث جاری ہے اور بادی النظر میں یہ بحث جاری رہے گی۔ تاہم یہ طے ہوچکا ہے کہ ریونیو کورٹ کا تعلق ریونیو ریکارڈ سے ہے اور ریونیو افسر نے سائل کی بات غور سے سننی ہے اور پھر ریکارڈ کی مدد سے فیصلہ کرنا ہے۔ لینڈ ریکارڈ مینیجمنٹ۔۔ گراس روٹ معاملہ۔ جب لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا فوری حل نکالا جائیگا تب ہی انصاف گھر کی دہلیز تک عملی طور پر یقینی بنایا جائیگا۔ معاشرے کو بڑے بڑے جرائم مثلاً قتل، پانی چوری، فراڈ، ریکارڈ ٹمپرنگ، اعانت جرم، لا اینڈ آرڈر کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر امن وامان اور فلاحی معاشرہ کے قیام میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا کلیدی کردار ہے۔ معاشرے میں ہیجان، پریشانی اور بداعتمادی کی فضا کیوں قائم ہوئی۔ ماضی ہم سب کا اس لحاظ سے بھیانک ہے کہ ہم سب نے چیزوں کو سطحی طور پر لیا ہے اور یوں مجموعی طور پر حالات دگرگوں۔ ریونیو کورٹ کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہوا۔ کرپشن، بے قاعدگیوں اور لاقانونیت کے چرچے۔ انصاف بکنے لگے، فیصلے تبدیل ہونے لگے اور ریکارڈ دن دیہاڑے چوری ہونے لگے بلکہ ریکارڈ روم ہی نذر آتش ہونے لگے۔ سائنسی ایجادات کا دور، عوام کا ریونیو کورٹس پر عدم اعتماد اور اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان۔ حکومت پنجاب، بورڈ آف ریونیو اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو۔ یقینا آغاز بابر حیات تارڑ نے کیا، سیاسی قیادت کے پختہ عزم کے بغیر اصلاحات کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی ہے۔ محترمہ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کی روشن خیال قیادت، غیر متزلزل عزائم اور پختہ ارادے۔ تمام مسائل کا ایک ہی حل۔ جدید تقاضوں کے مطابق اداروں کی تنظیم نو۔ اس کے بعد مضبوط بنیادوں پر بورڈ آف ریونیو کی تشکیل نو اور زاہد اختر زمان سابق سینئر ممبر اور موجودہ چیف سیکریٹری کا لاجواب اور قابل رشک کام۔ اس کام کے تسلسل کو نبیل جاوید موجودہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے آگے بڑھایا اور خوب بڑھایا بلکہ مذکورہ کام کی تکمیل کو محنت اور جانفشانی سے یقینی بنایا۔ بلاشبہ علامہ محمد اقبال کا فرمان برائے حضرت انسان (یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم) اصلاحات کا دائرہ وسیع اور ریونیو کورٹس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ مکمل ڈیجیٹل سسٹم۔ گھر بیٹھے سائل یا اس کا وکیل اپنا کیس ایپ کی مدد سے دائر کرسکے گا، اس کو اس کے مسکن پر ہی پیشی کی اطلاع مل جائیگی۔ وہ خود مقررہ تاریخ پر عدالت آ بھی سکتا ہے اور بذریعہ وڈیو عدالتی کاروائی بھی جوائن کر سکتا ہے۔ تاریخ پر تاریخ کا سلسلہ سپرد خاک۔ عدالتی نظام کی بلاواسطہ مانیٹرنگ کے لئے ایک فاضل ممبر تعینات اور سینیئر ممبر بلاواسطہ عدالتی امور پر نظر رکھیں گے۔ یوں ریڈر کی بادشاہی کا خاتمہ۔ مطلوبہ ریکارڈ سسٹم کی مدد سے روبرو عدالت پیش خدمت ہوگا ۔ پٹواری کا بستہ ابدی نیند سو گیا اور بالآخر فیصلہ کی نقل کے استحصال کا بھی مکمل خاتمہ۔ سسٹم جنریٹڈ فیصلہ اور سسٹم کی مدد سے نقل فیصلہ کا اجرا۔ریڈر اور اہلمد کی بادشاہیاں۔ کام تمام ہوا اور سرعام ہوا۔ محترم نبیل جاوید کی نگرانی ہائے کے لئے مشاورت کا زبردست نظام، ریونیو افسران کو تنبیہ اور ناقص کارکردگی کے حامل افسران کے خلاف تادیبی کارروائی۔ ریونیو افسران کا روز حشر بلکہ روز جزا اور سزا۔ مکمل دیجیٹل نظام اور اس سارے نظام کی کامیابی میں اکرام الحق ڈائریکٹر جنرل پلرا کا اہم کردار۔ انصاف کے تقاضے جب پورے ہونگے۔ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ جب بہتر ہو جائیگی، عوام کی جائیدادوں کی تقسیم، حدبراری، قبضہ جات، ٹائٹل کے معاملات وغیرہ جب فوری حل ہونگے تو ہر شخص دوسرے سے الجھنے کی بجائے اس کے قریب آئے گا قربت اپنائیت پیدا کرتی ہے اور اپنائیت محبت اور اخلاص کی فضا پیدا کرتی ہے اور یوں ماحول میں امن اور سکون کی فضا۔ لا اور آرڈر ہم دم اور ہم قدم۔ ہر چیز ان آرڈر اور یوں ”آرڈر آرڈر” کہنے کی ضرورت ختم۔ اب ہم سب پر بھاری ذمہ داری ہے کہ ہم قانون کے نفاذ کی اہمیت کو سمجھیں، انصاف کے تقدس کو پیش نظر رکھیں اور اس کے حصول کو یقینی بنانے میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ پر عوام کے اعتماد کو بحال کر کے عوام کی عدالت میں سرخرو ہو جائیں۔




