اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور یہ ہجری سال کا وہ پہلا مہینہ جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، اس مہینے کا چاند نظر آتے ہی فضاء سوگوار ہو جاتی ہے، کھلے ہوئے چہرے مرجھائے مرجھائے لگتے ہیں، آل نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم، اولاد علی علیہ السلام کے ساتھ کربلا کے تپتے صحرا میں پیش آنے والے دردناک واقعہ کی وجہ سے اہل بیت اطہار سے محبت وعقیدت رکھنے والے ہر مومن کا دل افسردہ اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، واقعہ کربلا ہمیں محبوب خدا حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام’ آپ کے اہلخانہ اور جانثار ساتھیوں کی دین اسلام کی سربلندی کے لیے دی جانیوالی عظیم قربانی اور بلند ترین کردار کی یاد دلاتا ہے، اہل بیت اطہار کی تعظیم وتکریم امت محمدیہ کے لیے ضروری ہے حدیث نبویۖ ہے کہ آقائے دوجہاں، رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے حسن وحسین سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا، محرم الحرام ہمیں اہل بیت اطہار کی عظیم قربانیوں’ صبر اور حق پر استقامت کی یاد دلاتا ہے، امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرنا بہت بڑی خوش بختی ہے اور یہ ذکر رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا اظہار بھی ہے، جس محفل میں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ ہو، وہاں پر وفا’ قربانی اور دین حق کی خوشبو پھیلتی ہے، امام حسین علیہ السلام کی یاد دلوں کو حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے جوڑتی ہے اور ہمیں حق وانصاف کے راستے پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے، امام حسین علیہ السلام کا ذکر جتنی بار ہو گا، اتنی بار محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم خوش ہونگے، کیونکہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے جگر گوشہ اور دین حق کے عظیم علمبردار ہیں، پیارے آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل پاک سے عشق ہمارے ایمان کی جان ہے اور جن لوگوں کو محبت وعقیدت کی توفیق مل جائے تو ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھتا ہے، غازی علم الدین شہید کا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عشق روز روشن کی طرح عیاں ہے، آپ لاہور میں پیدا ہوئے اور نوجوانی میں ہی ناموس رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی جان قربان کر دی، ان کا نام علم الدین تھا، والد طالع مند بڑھئی تھے، متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے علم الدین نے کم عمری میں اپنے والد محترم کے ساتھ بڑھئی کا کام سیکھا، آپ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے، ہندو ناشر مہاشی راجپال نے جب ایک کتاب شائع کی جو شان رسالت میں گستاخی پر مبنی تھی تو مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی، لیکن برطانوی عدالتوں نے کم سزا دی جس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اُٹھے، 6 اپریل 1929ء کو علم الدین نے انار کلی ہسپتال روڈ پر راجپال پر حملہ کیا جس سے وہ بدبخت ہلاک ہو گیا، علم الدین نے گرفتاری پیش کی اور اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناموس رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں کیا ہے، وہ فخر کیساتھ پرسکون رہے، سیشن کورٹ نے انہیں موت کی سزا سنائی اور 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں پھانسی دیدی گئی، آخری لمحات میں انہوں نے دو رکعت نفل پڑھی اور شہادت کی گواہی دی، لاہور میں آپ کی نمازجنازہ میں تقریباً چھ لاکھ لوگ شریک ہوئے، آپ کی تدفین میانی صاحب قبرستان لاہور میں ہوئی’ جہاں پر عاشقان مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فیوض وبرکات حاصل کرنے کیلئے حاضری پیش کرتے ہیں، غازی علم الدین شہید، اہل اسلام میں غازی اور شہید کے القاب سے مشہور ہیں۔ آپ کے چاہنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں اور آپ ان کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے، غازی علم الدین شہید کے نام پر سڑکیں’ ہسپتال اور پارکس ہیں جو ان سے محبت وعقیدت کا اظہار ہے، آپ کی قربانی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ عشق مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شمعیں روشن کرتی رہے گی، غازی علم الدین شہید سمیت جس کسی نے بھی حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل پاک سے محبت کی اسے بلند مقام حاصل ہوا، بے شک! اس در سے جو وابستہ ہو گیا اس کی نسلیں آباد وشاد ہو جاتی ہیں، محرم الحرام کے موقع پر اہل اسلام کو واقعہ کربلا کی یادیں اشکبار کر دیتی ہیں اور شہداء کربلا کا غم ہی سب کچھ ہے، یہ غم دوسرے غموں سے بچا لیتا ہے، میں یہاں پر اپنے ساتھ پیش آنیوالا ایک واقعہ درج کر رہا ہوں جو کچھ یوں ہے کہ میں ایک شخص سے باتیں کر رہا تھا جس کے دوران اسے کہا کہ محرم الحرام کے دنوں میں شادی بیاہ اور منگنی وغیرہ کی تقریبات اور تفریحی ٹورز پر جانے سے اجتناب کرنا چاہیے تو وہ کہنے لگا یہ کہاں لکھا ہے کہ تو میں نے بے ساختہ اس سے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ خوشی کی یہ تقریبات غم کے ان دنوں میں کرو، بلاشبہ! جو غم حسین میں نہیں روتے، تقدیر ان بدبختوں کو خون کے آنسو رلا دیتی ہے، امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنے بلند ترین کردار کے ذریعے دین اسلام کو امر کر دیا، اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں شہدائے کربلا کی یاد میں محفل پاک سجائیں اور خواتین وبچوں کو امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کی دین اسلام کے لیے دی جانیوالی عظیم قربانی سے آگاہ کریں، ہمیں ان دنوں میں سوشل میڈیا پر بھی شہدائے کربلا کا تذکرہ کرنا چاہیے، ذکر حسین کی محفلیں سجانے والے ان کے صدقے جو مانگیں اﷲ تعالیٰ عطا فرماتا ہے، نویں، دسویں کی نیاز کی بڑی برکت ہے جس سے انسان سخی وغنی بن جاتا ہے، اﷲ کرے ہماری زندگیاں غم حسین میں گزریں اور موت بھی آئے غم حسین میں آئے۔




