منڈی صادق گنج(نامہ نگار)بہاولنگر ضلع میں منشیات کا بڑھتا ہوا ناسور ایک بار پھر تشویشناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ نوجوان نسل کو تباہ کرنیوالے اس زہر کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ ضلع بھر میں ہر ماہ 35 سے 40 افراد منشیات کے باعث اپنی زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول فورس بہاولنگر میجر (ر)اویس جدون نے سنیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئس کا نشہ انتہائی خطرناک ہے جو عام منشیا ت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نشے نے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔میجر (ر) اویس جدون کے مطابق منشیات کے پھیلا میں ایک بڑا مسئلہ جعلی ادویات اور بعض نشہ آور اجزا کا غلط استعمال ہے، جبکہ بعض میڈیکل سٹورز پر مبینہ طور پر ایسی ادویات کی فروخت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو نشے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی نشاندہی کر کے فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ سی ای او ہیلتھ، ڈرگ انسپکٹر اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ چند روپے کمانے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نوجوان نسل کا مستقبل بچانے کے لیے منشیات فروشوں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز ایکشن ضروری ہے۔منشیات کا یہ بڑھتا ہوا جال صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آج اس ناسور کے خلاف مثر قدم نہ اٹھایا گیا تو کل کتنے مزید گھر اجڑیں گے؟اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، محکمہ صحت اور معاشرہ مل کر اس لعنت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں،کیونکہ ایک نسل کو بچانے کی جنگ صرف کارروائیوں سے نہیں بلکہ مسلسل نگرانی اور ذمہ داری سے جیتی جا سکتی ہے۔




