کم از کم اجرت 60ہزار مقرر کی جائے

لاہور( بیوروچیف)چیئرمین پبلک ایکشن فورم آصف سلیم مٹھا نے نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی موثر رجسٹریشن کا نظام لانے اور کم از کم ماہانہ اجرت 60ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں متعدد فیکٹریوں میں آج بھی مزدوروں سے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے جبکہ انہیں صرف 20 سے 22 ہزار روپے ماہانہ اجرت دی جاتی ہے ۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ نجی شعبے میں دی جانے والی موجودہ تنخواہیں مہنگائی کے کے تناسب سے ناکافی ہیں ۔روزگار کے بہترین متبادل ذرائع میسر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ انتہائی کم اجرت پر ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں جو استحصال کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے اور گھروں میں کام کرنے والوں کی رجسٹریشن اور انہیں حکومت کی طے کردہ اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے اصلاحات کی جائیں۔نجی شعبے میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے انشورنس کو لازمی قرار دیاجائے تاکہ کسی بھی حادثے یا بیماری کی صورت میں انہیں مالی تحفظ حاصل ہو سکے، اس کے ساتھ ساتھ تمام ورکرز کے لیے بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں