کینساس سٹی (سپورٹس نیوز) امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے دوران شائقین کی توجہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ ایک دلچسپ رجحان نے بھی اپنی جانب توجہ مبذول کر لی ہے۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں بڑی تعداد میں کھلاڑی روشن گلابی رنگ کے فٹبال جوتے پہن کر میدان میں اترے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ آخر اتنے زیادہ گلابی جوتے کیوں نظر آ رہے ہیں۔ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ہی یہ رجحان واضح ہو گیا تھا، جب میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے مقابلے میں دونوں ٹیموں کے 22 ابتدائی کھلاڑیوں میں سے صرف تین ایسے تھے جنہوں نے گلابی رنگ کے جوتے نہیں پہنے تھے۔ اس کے بعد بھی تقریبا ہر میچ میں مختلف شیڈز کے گلابی جوتے میدان میں دکھائی دیتے رہے۔دنیا کے معروف فٹبالرز، جن میں فرانس کے کائلین ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ شامل ہیں، بھی اس رجحان کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب نسبتا چھوٹے فٹبال ممالک جیسے کیپ وردے اور کیوراسا کے کئی کھلاڑی بھی اسی رنگ کے جوتوں کے ساتھ میدان میں اترے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کی بنیاد ورلڈ کپ سے پہلے ہی رکھی جا چکی تھی۔ ایڈیڈاس، نائیک، پوما، نیو بیلنس اور اسکیچرز سمیت کئی معروف اسپورٹس برانڈز نے ٹورنامنٹ سے قبل اپنے نئے فٹبال جوتوں کی رینجز متعارف کروائیں، جن میں نمایاں رنگ گلابی تھا۔ اگرچہ ہر کمپنی نے اپنے رنگ کو الگ نام دیا، لیکن مجموعی طور پر تمام ڈیزائن ایک دوسرے سے کافی مشابہ تھے۔نیو بیلنس کے فٹبال پروڈکٹس کے سربراہ روب شیلڈن کے مطابق روشن رنگ نہ صرف میدان میں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ برانڈز کے لوگوز کو بھی لاکھوں ناظرین کی نظروں میں نمایاں بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں فٹبالرز صرف کھلاڑی نہیں بلکہ خود ایک برانڈ بھی بن چکے ہیں، اس لیے وہ ایسے جوتے پسند کرتے ہیں جو ان کی شخصیت اور انفرادیت کی عکاسی کریں۔شیلڈن کے مطابق ورلڈ کپ میں دو رجحانات ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ ایک جانب کھلاڑی جدید ترین کارکردگی فراہم کرنے والے جوتے چاہتے ہیں۔




